The news is by your side.

بھوکا ہاتھی کھانے کی تلاش میں انسانوں کی بستی میں گھس گیا، پھر کیا ہوا؟ ویڈیو وائرل

بھارتی میں میں ایک بھوکا جنگلی ہاتھی کھانے کی تلاش میں انسانوں کی بستی میں گھس گیا، جس کی ویڈیو نے صارفین کو تڑپا کر رکھ دیا۔

بھارت میں آج کل جنگلی جانوروں کی انسانی بستیوں میں آزادنہ گھومنے کی ویڈیوز خوب وائرل ہورہی ہیں، گزشتہ دنوں آسام میں ایک بھوکے جنگلی ہاتھی کی دریائے برہم پترا میں تیراکی کی ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں ہاتھی کی حالت دیکھ کر صارفین بھی افسردہ ہوگئے تھے۔

اے آروائی نیوز براہِ راست دیکھیں live.arynews.tv پر

ایک بار پھر کازیرنگا نیشنل پارک سے ایک جنگلی لیکن بھوکے ہاتھی کی آسام کے شہر تیز پور میں آزادنہ گھومنے کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جو گھنٹوں وہاں گلیوں میں گھومتا رہا۔ ویڈیو میں ہاتھی کے جسم سے نکلتی ہڈیاں اسے بیمار اور بھوکا ظاہر کر رہی ہیں۔ کھانے کی تلاش میں یہ ہاتھی ایک گھر میں بھی گھس گیا۔

بھوکا ہاتھی گلیوں میں گھومتا رہا اور کئی مقامات کا دورہ کیا۔ محکمہ جنگلات کے حکام کے مطابق ہاتھی کھانے کی تلاش میں چنماڑی کے علاقے میں ایک گھر کے کچن میں داخل ہوا۔ بعد ازاں وہ ٹکر تیز پور جہاز کی بندرگاہ کے ذریعے چترلیکھا پارک گیا، جہاں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھے، اس کے فوراً بعد ہاتھی آسام اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ASTC) بس اسٹینڈ کا دورہ کیا اور وہاں کھڑی دو گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کے بعد یہ ہاتھی بالآخر ضلع ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کے دفتر کے پیچھے ایک گڑھے میں جا گرا۔

ہاتھی کا شہر کا دورہ اس وقت ختم ہوا جب محکمہ جنگلات کے اہلکاروں نے اسے برہم پترا کے کنارے کی طرف دھکیل دیا۔

بکاش ادھیکاری نامی ایک صارف نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھوکے ہاتھی کی شہر میں مٹرگشت کی ویڈیو پوسٹ کی جس میں اس نے اپنی والدہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ تیز پور میں یہ ہاتھی میرے گھر کے سامنے سے گزرا ہے، اس کی حالت کافی بری ہے اور یہ سب انسانوں کیلیے شرم کی بات ہے، ہمیں اپنی فطرت کا تحفظ کرنا چاہیے۔

 

اس دوران ٹوئٹر ہاتھی کی ویڈیوز سے بھر گیا، بہت سے لوگوں نے شہر میں ہاتھی کے دورے کے پیچھے دل دہلا دینے والے حقائق کو اجاگر کیا جب کہ صارفین یہ حالات دیکھ کر اداس ہوگئے۔
ایک صارف نے لکھا بھوکے ہاتھی کو دیکھو، کمر سے ہڈیاں نکلتی نظر آرہی ہیں، کمزور ہاتھی کھانے کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹک رہا ہے لیکن اس وسیع دنیا میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں