The news is by your side.

Advertisement

11 مئی 1947 کو بجھائے گئے ایک سگار کی دل چسپ کہانی

برطانیہ کے سابق وزیرِاعظم ونسٹن چرچل کو دنیا ایک زیرک سیاست داں اور مدبر کہتی ہے جب کہ اس دور میں اسے ہندوستان میں متعصب انگریز سمجھا جاتا تھا۔

ونسٹن چرچل کا خاندان برطانیہ میں‌ سیاست اور عسکری میدان میں‌ خدمات کے لیے مشہور تھا اور ایک وقت آیا جب ونسٹن چرچل برطانیہ کے حکم راں بنے۔ چرچل فنونِ لطیفہ کے رسیا تھے۔ مطالعے، نثر و نظم میں‌ دل چسپی اور تصویر کشی کے اس شائق نے اپنے دور میں جنگ کا میدان بھی سجایا۔ یہاں‌ ہم تاریخ کے اس اہم اور مشہور کردار کے ایک سگار کا تذکرہ کررہے ہیں‌ جو یقینا آپ کی دل چسپی کا باعث بنے گا۔

یہ 11 مئی 1947 کی بات ہے۔ ونسٹن چرچل اس وقت پیرس کے ہوائی اڈے پر موجود تھے۔ وہ واپس اپنے وطن جانے کے منتظر تھے۔ اڑان بھرنے سے پہلے انتظار کے دوران انھوں نے اپنی جیب سے سگار نکالا اور سلگا لیا، لیکن زیادہ دیر اس سے لطف اندوز نہ ہوسکے، تھوڑا سا پینے کے بعد ونسٹن چرچل نے سگار سے ہاتھ روک لیا۔

یہ کیوبن سگار تھا جو اس زمانے میں‌ بہت شوق سے پیے جاتے اور خوب فروخت ہوتے تھے۔ اس سگار پر کمپنی کا سرخ اور سنہری لیبل چمک رہا تھا۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ ونسٹن چرچ کا یہ بچا ہوا سگار برطانوی رائل ایئر فورس کے ایئرمین نے اپنے پاس رکھ لیا تھا۔ یہی شخص چرچل لندن سے پیرس اور وہاں‌ سے واپس لندن لایا تھا۔

‘اس نے اس سگار کے ساتھ منسلک کی گئی ایک تصویر پر لکھا کہ ونسٹن چرچل نے اپنا سگار ایش ٹرے میں بجھایا اور میں نے اسے اپنے پاس محفوظ کر لیا۔

بعد میں‌ جب وہ اہل کار اس سگار اور اس سے جڑی اپنی یاد کو منظرِ عام پر لایا تو سبھی نے اس میں‌ بہت دل چسپی لی۔ بعد میں‌ برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل کا یہ سگار ہزاروں‌ ڈالر میں نیلام کردیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں