تازہ ترین

فیض آباد دھرنا : انکوائری کمیشن نے فیض حمید کو کلین چٹ دے دی

پشاور : فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کی رپورٹ...

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں...

سعودی وزیر خارجہ کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچ گیا

اسلام آباد: سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان...

حکومت کل سے پٹرول مزید کتنا مہنگا کرنے جارہی ہے؟ عوام کے لئے بڑی خبر

راولپنڈی : پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا امکان...

نئے قرض کیلئے مذاکرات، آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی

واشنگٹن : آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹیلینا...

موسم سرما میں دل کے دورے سے اموات میں اضافہ کیوں؟

سخت سردی میں جہاں دیگر بیماریاں جنم لیتی ہیں وہیں دل کا دورہ پڑنے کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہے اس کے علاوہ دماغ کی نس پھٹنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔

ان ایام میں نہ صرف عمر رسیدہ بلکہ جوان اور صحت مند افراد بھی دل کے دورہ پڑنے اور اسٹروک کے بعد اسپتال لائے جاتے ہیں اور ان میں سے کئی مریض اسپتال پہنچنے سے قبل ہی جان کی بازی ہار دیتے ہیں۔

اس حوالے سے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر افضل نے بتایا کہ سخت سردی کے نتیجے میں خون کی شریانیں سکڑ جاتی ہیں جو دل کے دورے کا سبب بنتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونری شریانوں میں خون کے جمنے کی نشوونما دل کے دورے کا سبب بنتی ہے۔ سردیوں میں ہمارے جسم میں فائبرنوجن کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ پلیٹ لیٹس کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے اور نتیجے کے طور پر خون کے جمنے سے کلاٹ بن سکتے ہیں۔

سردی میں دل کو کیسے صحت مند رکھیں ؟

انہوں نے کہا کہ بلڈ پریشر کو چیک کرتے رہیں، 140/90 ایم ایم ایچ جی یا اس سے زیادہ کی ریڈنگ بہت زیادہ ہے، جب بلڈ پریشر معمول کی حد میں ہوتا ہے تو دل، شریانیں اور گردے کم اوورلوڈ ہوتے ہیں۔

بلڈاور شوگر لیول کو برقرار رکھیں

ہائی بلڈ شوگر کی وجہ سے دل، گردے، آنکھیں اور اعصاب وقت کے ساتھ متاثر ہو سکتے ہیں اگر کسی کی عمر 45 سال یا اس سے زیادہ ہو تو دل کی صحت کے چیک اپ کے لیے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں۔ ذیابیطس اور دل کی بیماری والے شخص کو اپنے خون میں شکر کی سطح کی نگرانی کے لیے گلوکوومیٹر استعمال کرنا چاہیے۔ مٹھائی اعتدال میں کھانی چاہیے نہ کہ زیادہ مقدار میں۔

زیادہ نمک سے پرہیز کریں

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایسے میں نمک کی مقدار کو محدود کرنے کی ضرورت ہے، ہم سب میں سال بھر نمک والی غذائیں کھانے کا رجحان ہوتا ہے، اگر ہم اپنے بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں نمک کی مقدار کو محدود کرنا چاہیے۔

Comments

- Advertisement -