The news is by your side.

بھارت: خاتون کو چڑیل قرار دے کر زندہ جلا دیا گیا

نئی دہلی: بھارت کے ایک گاؤں میں ایک خاتون کو چڑیل قرار دے کر زندہ جلا دیا گیا، گاؤں والوں نے خاتون پر جادو ٹونے کا الزام لگایا اور بہیمانہ تشدد کر کے انہیں آگ لگا دی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ اندوہناک واقعہ ریاست بہار کے ضلع گیا کے ایک گاؤں میں پیش آیا جہاں خاتون کو چڑیل قرار دے کر زندہ جلا دیا گیا۔

واقعے سے قبل پنچایت کا اجلاس بھی ہوا تھا جس میں پنچایت کے مکھیا، سرپنج اور مقامی سیاسی رہنما بھی شامل ہوئے تھے۔

خاتون ہیمنتی دیوی کے شوہر کا کہنا ہے کہ دو روز قبل سہ پہر کے وقت ان کے گھر پر کم از کم 200 افراد نے حملہ کیا، اس وقت ان کی اہلیہ گھر کی چھت پر موجود تھیں۔

ہجوم انہیں لے کر گھر کے ایک کمرے میں گیا اور انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا، اس کے بعد انہیں زندہ جلا دیا، غیر انسانی تشدد اور شدید طور پر جھلسنے کی وجہ سے خاتون موقع پر ہی جاں بحق ہوگئیں۔

حملے کی زد میں اہلخانہ بھی آئے جنہوں نے خاتون کو بچانے کی کوشش کی۔

واقعے کے بعد پورے گاؤں میں خوف و سراسیمگی کی فضا قائم ہے، پولیس بڑے پیمانے پر ملزمان کی تلاش کر رہی ہے اور جگہ جگہ چھاپے مار رہی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے قبل خاتون کے ایک رشتے دار کی موت ہوئی تھی جس کے بعد اس کے گھر والوں نے ہیمنتی دیوی پر جادو ٹونے کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ قتل کی ذمہ دار ہے۔

گاؤں والوں کے مطابق رشتے دار کی موت کسی سنگین بیماری کی وجہ سے ہوئی تھی لیکن اس کے گھر والے یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھے۔

وقوعے کے روز انہوں نے اسی معاملے پر پنچایت بلانے کی درخواست دی تھی اور اس موقع پر جھاڑ کھنڈ سے ایک جھاڑ پھونک کرنے والے فقیر کو بھی بلایا گیا تھا۔

اس فقیر نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ہیمنتی پر ایسا عمل کرے گا کہ وہ اپنے جرم کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔

تاہم پنچایت کے دوران دونوں فریقین کے درمیان بحث و تکرار شروع ہوگئی، فقیر موقع دیکھ کر وہاں سے بھاگ گیا اور پنچایت بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئی۔

اس کے بعد رشتے دار کے گھر والوں نے گاؤں والوں کو اکسا کر اپنے ساتھ ملایا اور ہیمنتی کے گھر پر حملہ کردیا، اس دوران ہیمنتی کے بیٹے اور شوہر نے انہیں بچانے کی کوشش کی لیکن حالات قابو سے باہر دیکھ کر انہیں بھی فرار ہونا پڑا۔

مقامی میڈیا کے مطابق گاؤں میں موبائل کا نیٹ ورک نہایت کمزور ہے جس کی وجہ سے پولیس کو ملزمان کی تلاش میں دشواری کا سامنا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں