The news is by your side.

Advertisement

انوکھا کیس، خاتون خود کو زندہ ثابت نہ کر سکی

عدالت سے مردہ قرار دی گئی خاتون کو اپنے آپ کو زندہ ثابت کرنے کے لیے جتن اٹھانے پڑ رہے ہیں۔

یہ حقیقی کہانی تیسری دنیا کے کسی ملک کی نہیں بلکہ ترقی یافتہ ملک فرانس کی ایک خاتون کی ہے جو خود کو زندہ ثابت کرنے کے لیے سالوں سے جدوجہد کررہی ہے۔

فرانس کے شہر لیون کی ایک 58 سالہ خاتون جسے سابق ملازم کے ساتھ ایک طویل عرصے سے جاری تنازعہ کے دوران لیبر عدالت نے مردہ قرار دے دیا تھا اب اپنے وجود کو زندہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

French woman, declared dead, fights to prove she's alive

جین پاچاین نامی خاتون یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ نومبر 2017 میں اس کے ایک سابق ملازم نے عدالت میں موت کی اطلاع دی تھی جس سچ مانتے ہوئے خاتون کو مردہ قرار دیا گیا۔

خاتون کے پاس اپنی شناخت کے حوالے سے کوئی سرکاری ریکارڈ نہیں ہے۔ اس نے اپنا شناختی کارڈ، ڈرائیور کا لائسنس ، بینک اکاؤنٹ اور صحت انشورنس کھو دیا ہے۔

French Woman Fighting Three-Year Battle To Prove She's Alive

جین پاچاین کے وکیل سلون کوریمیر نے کہا کہ یہ ایک عجیب کیس ہے۔ مدعی نے دعویٰ کیا کہ تھا کہ مسز پاؤچین کوئی ثبوت فراہم کیے بغیر ہی مر گئیں اور سب نے اس پر یقین کیا، کسی نے بھی جانچ نہیں کی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں