کراچی : سائٹ سپر ہائی وے پر مبینہ ڈکیتی کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والی حاملہ خاتون کا قتل نیا رخ اختیار کرگیا۔
پولیس کے مطابق سائٹ سپر ہائی وے فقیرا گوٹھ پریشان چوک کے قریب موٹر سائیکل پر سوار میاں بیوی پر دو مسلح افراد نے دوران ڈکیتی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں خاتون جاں بحق ہوگئی تھی۔
اس حوالے سے پولیس تحقیقات کے دوران اصل معاملے تک پہنچ گئی اور ملزم شوہر کو حراست میں لے کر تفتیش کا آغاز کردیا۔
شرقی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سپرہائی وے فقیرا گوٹھ میں 25 سالہ صائمہ زوجہ عرفان کے قتل کا واقعہ ڈکیتی مزاحمت کا نہیں تھا، مقتولہ کے شوہر کی جانب سے بتائی گئی جائے وقوعہ درست نہیں نکلی۔
شرقی پولیس نے بتایا کہ قتل گھر کے اندر ہوا تھا جسے ڈکیتی مزاحمت کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی، اسلحہ برآمد کرکے مقتولہ کے شوہر کو تفتیش کیلئے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں : ڈکیتی میں مزاحمت پر حاملہ خاتون قتل، شوہر کا بیان
واضح رہے کہ وقوعہ کے بعد مقتولہ خاتون کے شوہر عرفان نے اپنے بیان میں کہا کہ میری اہلیہ صائمہ حاملہ تھی جسے اسپتال لے کر جا رہا تھا، ایک موٹر سائیکل پر 2 ملزمان آئے اور لوٹ مار کرنے لگے، ملزمان نے میرا موبائل فون چھین لیا تھا اور صائمہ کا پرس چھین رہے تھے۔‘‘
عرفان نے بتایا تھا کہ اہلیہ صائمہ نے پرس چھیننے والے ایک ڈاکو کو دھکا دیا تو وہ گرگیا تھا جس پر ڈاکو نے صائمہ پر فائرنگ کردی تھی۔
پولیس کو دیے گئے اس بیان کے بعد تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خاتون کا قتل ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نہیں ہوا کیونکہ مقتولہ کا شوہر جاے وقوعہ کی نشاندہی نہ کرسکا جسے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں کراچی کے علاقے ایف بی ایریا بلاک 21 میں ایک فلیٹ سے خاتون کی 10 روزہ پرانی لاش برآمد ہوئی ہے، خاتون کی شناخت 65 سالہ نزہت فاطمہ زوجہ عبد الباری کے نام سے ہوئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون فلیٹ میں تنہا رہائش پذیر تھی، لاش کے پوسٹ مارٹم کے بعد ہی موت کی وجہ اور مزید تفصیلات سامنے آسکیں گی۔