The news is by your side.

پولیس افسر کی بلیک میلنگ سے دلبرداشتہ خاتون نے خود کو آگ لگالی

فیصل آباد : شادی کا جھانسہ دیکر دھوکہ دینے والے پولیس افسر کی بلیک میلنگ سے تنگ آکر خاتون نے خود کو آگ لگالی، خاتون نے خود سوزی سے قبل پولیس حکام کو خط لکھ کر آگاہ کردیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق سب انسپکٹر کی جانب سے مبینہ بلیک میلنگ کرنے پر دلبرداشتہ چنیوٹ میں خاتون نے خود سوزی کرلی جسے نہایت تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

لاہور کی رہائشی32سالہ ارم اور انچارج او ایس آئی برانچ چنیوٹ سب انسپکٹر ظل حسنین کی آپس میں دوستی تھی۔ سب انسپکٹر نے اسے شادی کا جھانسہ دے رکھا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق ظل حسنین کی دوسری جگہ شادی ہونے پر ارم شدید دلبرداشتہ تھی، جس پر اس نے سیٹلائٹ ٹاؤن میں ظل حسنین کے گھر کے باہرخود پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگالی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ارم کو شدید تشویشناک حالت میں سول اسپتال چنیوٹ سے الائیڈ اسپتال منتقل کیا گیا متاثرہ ارم کے جسم کا80فیصد حصہ جھلس چکا ہے۔

۔ڈاکٹروں کے مطابق آگ لگنے کی وجہ سے خاتون کا دھڑ بری طرح متاثر ہوا ہے، زخمی خاتون کے جسم کا 80فیصد حصہ جھلسا ہوا ہے جس کے با عث اس کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔

پولیس حکام نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ارم نے ظل حسنین کے گھر کے باہر خودسوزی کی کوشش کی ،متاثرہ ارم نے خود سوزی سے پہلے پولیس افسران کو ایک خط بھی ارسال کیا ہے۔

اے آر وائی نیوز نے متاثرہ ارم بشیر کے خط کی کاپی حاصل کرلی ہے، خط کے متن مں لکھا ہے کہ سب انسپکٹر ظل حسنین اسے شادی کا جھانسہ دے کر کئی دن تک زیادتی کرتا رہا۔

اس نے بتایا کہ ظل حسنین نے میری نازیبا تصاویر بھی بنا رکھی ہیں، شادی کے مطالبے پرظل حسنین نے ان نازیبا تصاویر کو انٹر نیٹ پر وائرل کرنے کی دھمکی بھی دی۔

متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ظل حسنین مجھ سے وقتاً فوقتاً رقم بھی لیتا رہا اور میرا زیور بھی اسی کے پاس ہے،میری اس حالت کا اصل ذمہ دار ظل حسنین ہے۔

ارم نے اپنے خط میں اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ میرے بعد یہ میرے اہلخانہ کو نقصان پہنچائے گا، میں نے جب اس حوالے سے ظل حسنین کے باپ اور بھائی کو بتایا لیکن وہ بھی اسی سے ملے ہوئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں