The news is by your side.

Advertisement

پولیس نے حاملہ خاتون کو ڈلیوری کے وقت ہتھکڑیوں سے بیڈ کے ساتھ باندھ دیا

امریکا میں ایک حاملہ خاتون کو ڈلیوری کے وقت پولیس نے ہتھکڑیوں سے بیڈ کے ساتھ باندھ دیا، متاثرہ خاتون نے پولیس کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی کا مقدمہ دائر کردیا۔

امریکی شہر نیویارک میں یہ واقعہ دسمبر 2018 میں پیش آیا جب پولیس نے 22 سالہ افریقی نژاد خاتون کو گرفتار کیا۔ خاتون کے دائر کردہ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے انہیں ان کی والدہ کے گھر سے گرفتار کیا، وہ اس وقت 40 ہفتوں کی حاملہ تھیں۔

خاتون کے مطابق ان پر عائد کردہ جرم نہایت معمولی تھا جو بعد ازاں خارج کردیا گیا، تاہم اس وقت پولیس نے انہیں پورا دن حراست میں رکھا اور تفتیش کرتے رہے۔

ایک دن بعد خاتون کی حالت بگڑنے پر انہیں ایمبولینس پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا اور اس دوران بھی انہیں ہتھکڑیاں لگائے رکھی گئیں، بعد ازاں اسپتال میں بھی ان کی ایک ٹانگ اور ایک پاؤں کو ہتھکڑی سے جکڑ دیا گیا اور انہوں نے اسی حالت میں بچے کوجنم دیا۔

خاتون کا کہنا ہے کہ بچے کو جنم دینے کے بعد اسے نرسری منتقل کیا گیا، اس دوران وہ ایک بار اپنے نومولود کو دیکھنے گئیں تب بھی ان کے دونوں پاؤں ہتھکڑیوں سے باندھ دیے گئے تھے۔

اب اس واقعے کے 14 ماہ بعد خاتون نے پولیس کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کروایا ہے۔

خاتون کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے کئی ماہ بعد تک وہ ڈپریشن کا شکار رہیں۔ نیویارک پولیس نے انہیں انسانیت کے درجے سے نیچے گرا دیا تھا۔ وہ اس مذموم فعل میں ملوث پولیس افسران کا احتساب ہونا دیکھنا چاہتی ہیں۔

خاتون کی وکیل کا کہنا ہے کہ نیویارک پولیس کی یہ حرکت نہایت احمقانہ اور سمجھ سے بالاتر ہے، ایک حاملہ اور درد زہ میں مبتلا خاتون نہ ہی اپنے لیے، نہ پولیس کے لیے اور نہ ہی کسی اور کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ایک غیر رسمی قانون اور اخلاقیات یہ کہتی ہیں کہ غیر معمولی حالات کے علاوہ کسی حاملہ خاتون کو ہتھکڑی نہیں لگائی جاسکتی۔

وکیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ مقدمے میں پولیس کے اقلیتوں سے غیر انسانی سلوک کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے، ’رنگ اور نسل کی بنیاد پر تعصب کا نشانہ بننے والی میری مؤکل پہلی انسان نہیں، اور امید ہے کہ ہمیں جلد انصاف فراہم کیا جائے گا‘۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں