The news is by your side.

Advertisement

زہریلے ترین جانور کو ہاتھ پر بٹھانے والی خاتون زندہ کیسے بچ گئیں؟

بعض اوقات بے خبری میں رہنا کسی انسان کی سنگین غلطی ثابت ہوسکتا ہے اور اسے ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے، ایسی ہی ایک خاتون بے خبری میں اپنے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتیں لیکن ان کی قسمت اچھی تھی کہ وہ بچ گئیں۔

انڈونیشیا کے سیاحتی جزیرے میں ایک خاتون کا سامنا ایک ننھے سے آکٹوپس سے ہوا جسے کیوٹ جان کر انہوں نے اپنی ہتھیلی پر بٹھایا اور تصویر اور ویڈیو بنا لی۔ لیکن جب انہیں علم ہوا کہ یہ آکٹوپس دنیا کا خطرناک ترین جاندار سمجھا جاتا ہے تو ان کے ہوش اڑ گئے۔

سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو اور اس کے حیرت انگیز پس منظر کے مطابق ننھا سا بھورے رنگ کا یہ آکٹوپس اپنے جسم پر نیلے رنگ کے دھبے رکھتا ہے۔

خاتون نے اس جانور کی صلاحیتوں سے بے خبر اسے اپنی ہتھیلی پر بٹھایا اور ویڈیو بنا لی، بعد ازاں تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر انہوں نے اس آکٹوپس کے بارے میں گوگل کیا تو انہیں علم ہوا کہ بلو رنگڈ آکٹوپس کہلایا جانے والا یہ جاندار زمین پر موجود زہریلا ترین جاندار ہے۔

اس آکٹوپس کا زہر چند منٹ میں 20 بالغ افراد کو موت کے گھاٹ اتارنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

صرف 4 انچ کی جسامت رکھنے والا یہ جاندار جب کسی انسان کو کاٹتا ہے تو اسے کوئی تکلیف نہیں ہوتی، لیکن صرف 10 منٹ کے اندر اسے سانس کی تکلیف شروع ہوتی ہے اور اس کے بعد مفلوج ہو کر وہ موت کے گھاٹ اتر جاتا ہے۔

خاتون کی پوسٹ کی گئی اس ویڈیو کو ٹک ٹاک پر 50 لاکھ سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں