site
stats
اے آر وائی خصوصی

پاکستانی خواتین کے لیے پہلی بار ٹیکسی سروس متعارف

فوٹو: پیکسی ٹیکسی فیس بک

کراچی: خواتین کے عالمی دن کے موقع پر شہر قائد میں خواتین کے لیے ’’پیکسی ٹیکسی‘‘ سروس متعارف کروانے جارہی ہے، جس میں ڈرائیور اور مسافر صرف خواتین ہی ہوں گی۔

تفصیلات کے مطابق نجی کمپنی نے آزمائشی سروس کے بعد پیکسی ٹیکسی کو 8 مارچ سے سڑکوں پر لانے کا اعلان کردیا ہے، کمپنی کے سوشل میڈیا مینجرمحمد عابد نے اے آر وائی (ویب) سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’خواتین کی مشکلات اور ٹرانسپورٹ کے موجودہ نظام کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کام شروع کیا گیا تاکہ ہماری خواتین باحفاظت آسانی کےساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ مسافت طے کرسکیں۔

paxi-3

پیکسی سروس پاکستان کی پہلی خواتین ٹیکسی سروس ہے جس میں خواتین ڈرائیور اور خواتین ہی مسافر ہیں، کمپنی منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ سروس ابتدائی طور پرعالمی یوم خواتین کے دن شروع کی جائے گی۔

paxi-1

ٹیکسی ڈرائیور خواتین کو کمپنی کی جانب سے باقاعدہ تربیت دی گئی اور یونیفارم دیا گیا ہے، 8 مارچ کو کمپنی متعارف کرواتے ہوئے آزمائشی سروس کے بعد باقاعدہ سروس 23 مارچ سے شروع کی جائے گی، سڑکوں پر آنے والی گاڑیوں کا رنگ گلابی ہوگا تاہم ابتدائی طور پر ابھی صرف دس گاڑیاں چلائی جائیں گی۔

طریقہ استعمال

کریم  اور اوبر کی طرح صرف خواتین صارف اسے موبائل ایپ کے ذریعے استعمال کرسکیں گی تاہم کمپنی نے آن لائن بکنگ کےلیے ایک نمبر بھی جاری کیا ہے جس پر کال کر کے سروس استعمال کی جاسکے گی۔

paxi-2

مینیجر کا کہنا ہے کہ ’’معیاری سروس مہیا کرنے کے لیے باقاعدہ کال سینٹر بنایا جارہا ہے تاکہ صارف کی درخواست پر اُسے فوری طور پر سروس مہیا کی جاسکے، ہیلپ لائن پر بکنگ کی صورت میں صارف کا آئی ڈی بنا کر اُسے چار ہندسوں پر مشتمل پن کوڈ دیا جائے گا اور اُس کی رائیڈ بک کی جائے گی‘‘۔

اس سروس کے آنے سے مختلف نجی شعبوں سے وابسطہ خواتین اور مختلف جامعات میں پڑھنے والی طلباء کو آسانی ہوجائے  گی،  یاد رہے کریم ٹیکسی سروس نے 10 خواتین ڈرائیورز کو ملازمت دی ہے جو اب باقاعدہ لوگوں کو پک اینڈ ڈراپ کا کام کررہی ہیں۔

paxi-4

 ایک سوال کے جواب میں پیکسی مینیجر نے کہا کہ قوانین کے تحت ٹیکسی سروس میں خواتین کے ساتھ مردوں کے سفر پر پابندی لگائی گئی ہے تاہم 12 سال سے کم عمر بچے اس میں سفر کرسکیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top