site
stats
حیرت انگیز

صنفی امتیاز سے بچانے والا لفظ

لندن: برطانیہ کی قدیم ترین آکسفورڈ یونیورسٹی نے مختلف صنف کے افراد کو خفت اور مشکل سے بچانے کے لیے فیصلہ کیا ہے کہ یونیورسٹی کے اندر طلبا اپنی گفتگو اور پڑھائی میں ’ہی‘ اور ’شی‘ کے بجائے متبادل لفظ ’زی‘ استعمال کریں گے۔

یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کیونکہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں مروج ضابطے کے مطابق کسی شخص کو اس کی مقابل جنس (لڑکی کو لڑکا، یا لڑکے کو لڑکی) سے پکارا جانا معیوب بات ہے۔

مزید پڑھیں: دنیا کی عظیم درسگاہ آکسفورڈ کی سیر کریں

غیر ملکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس فیصلے سے طلبا پر امید ہیں کہ درسگاہ میں لیکچرز اور سیمینارز کے دوران لفظ ’زی‘ کا استعمال کیا جائے گا تاکہ کسی بھی جنس کے افراد کی دل آزاری نہ ہو۔

یونیورسٹی میں تیسری جنس کے حقوق کے لیے سرگرم گروہوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا تعلق سیاسیات یا آزادی اظہار سے نہیں ہے، بلکہ یہ ہر جنس کے افراد کی حقیقت اور ان کے حقوق کو تسلیم کرنے کی طرف ایک قدم ہے۔

یونیورسٹی نے یہ فیصلہ نہ صرف تیسری جنس کے افراد کے لیے کیا ہے، بلکہ اسے کرتے ہوئے ان افراد کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے جو وقت کے ساتھ اپنی مرضی یا طبی وجوہات کی بنا پر اپنی جنس تبدیل کروا لیتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top