پاکستان کے گلیشیر پگھل رہے ہیں‘ آگاہی ضروری ہے -
The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کے گلیشیر پگھل رہے ہیں‘ آگاہی ضروری ہے

گلگت: ضلع گانچھے کے ایک چھوٹے سے گاؤں‘ سکسا میں ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا‘ جس میں مقامی آبادی کو ماحولیاتی تبدیلیوں اور ان کے انسانی زندگی پر اثرات سے آگاہ کیا گیا۔

ورکشاپ کا انعقاد بین الاقوامی ادارہ ماؤنٹین گلیشر پروٹیکشن آرگنائزینشن کی جانب سے کیا گیا۔ ورکشاپ میں ماہرینِ ماحولیات نے درختوں کی اہمیت، صاف پانی اور اوزون سطح کے بچاؤ کے حوالے سے تدابیر پر روشنی ڈالی۔

echo-1

اس موقع پر نثار علی جو کہ مقامی سکول میں استاد بھی ہیں ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے آگاہی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ عوام کو موسمیاتی تبدیلوں اور ان کے ایک عام آدمی کی زندگی پر اثرات کے حوالے سے آگاہ رکھا جا سکے ۔

گاوں کی مقامی تنظیم کے منتظم اعلیٰ حسن خان نے بھی اس ورکشاپ کو سراہا اور بین الاقوامی ادارے کی جانب سے آئے ہوئے افراد کا شکریہ ادا کیا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے شمالی علاقے جہاں قطبوں کے بعد کرہ ارض کے سب سے بڑے گلیشیرز پائے جاتے ہیں اس وقت دنیا میں بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے وقوع پذیر ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر نظر آتے ہیں۔

echo-2

گزشتہ چند سالوں کے دوران علاقے میں بڑے پیمانے پر سیلاب اور لینڈ سلائڈنگ کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ تیزی سے بڑھتے ہوئے قدرتی آفات کے واقعات نے مقامی آبادی کو سخت مشکلات میں ڈال دیا ہے اور ضروری ہے کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی اور اس کے اثرات کے سامنا کرنے کے طریقے سیکھیں۔

یاد رہے کہ ماؤنٹین گلیشر پروٹیکشن آرگنائزینشن کی جانب سے علاقے میں وسیع پیمانے پرزراعت کے فروغ کیلئے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کرپانی کی فراہمی کو بھی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں