site
stats
عالمی خبریں

اردن،ورلڈ بینک کا شامی پناہ گزینوں کے لیے 300 ملین ڈالر کا اعلان

واشنگٹن : ورلڈ بینک نےاردن میں موجود شامی پناہ گزینوں کے لیے 300 ملین ڈالرز جاری کرنے کا اعلان کیا ہے بہ طور قرضہ جاری کی گئی یہ رقم شامی پناہ گزینوں کو روزگار فراہم کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق ورلڈ بینک نے منگل کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں اردن میں موجود شامی پناہ گزینوں کو سہولت، اعانت اور باعزت روزگار کی فراہمی کے لیے 300 ملین ڈالرز کی رقم بہ طور قرض مہیا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اعلامیہ کے مطابق ورلڈ بینک کی جانب سے 300 ملین ڈالرز کی رقم جاری کرنے کا فیصلہ سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے تا کہ وہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کریں تا کہ اردن میں موجود شام کے مزدور پناہ گزینوں کوباعزت روزگارمیئسرآسکے۔

ورلڈ بینک کے مطابق اس امداد کے بعد مزید شامی پناہ گزین اردن میں ورک پرمٹ حاصل کر سکیں گے اور باعزت روزگار اور مناسب رہائش کے حصول تک با آسانی رسائی حاصل کر پائیں گے۔

ورلڈ بینک کے مشرق وسطی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ نے اپنے ایک بیان میں اردن کی جانب سے انسانی ہمدردی کے تحت شامی پناہ گزینوں کے لیے سازگارماحول،ملازمتوں کی فراہمی اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو قابل ستائش اور قابل تقلید قرار دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اردن کے ان اقدام کے کی وجہ سے دنیا میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کو طاقت ملے گی اور پناہ گزینوں کو بہ طور مظلوم عوام کے قبول کرنے کی تحریک کو جلا مل پائے گی جس کے بعد امید ہے کہ کئی اور ممالک اس کارِخیرمیں حصہ لیں گے۔

دوسری جانب اردن حکام کا کہنا ہے کہ وہ 5 ملین کے قریب پنا ہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے جن میں 6 لاکھ پناہ گزین ہی اقوام متحدہ سے رجسٹرڈ ہیں تا ہم ان افراد کی دیکھ بحال کے لیے فنڈز کی قلت کا سامنا ہے اور اب تک عالمی سطح کے کسی ادارے کی امداد کے بغیر ہم سے جو بن پا رہا ہے کر رہے ہیں۔

یاد رہے ماہ ستمبر کے اوائل میں اقوام متحدہ نے اردن کے بارڈر پرموجود 70 ہزار شامی پناہ گزینوں کی حالت زار پر مذمت کا اظہار کیا تھا جب مصر نے شامی پناہ گزینوں کے داخلے پر پابندی لگا رکھی تھی۔

واضح رہے مصر نے شامی پناہ گزینوں کے داخلے پر پابندی اورغذائی ضروریات کی فراہمی سے اس وقت انکار کردیا تھا جب داعش کی جانب سے اردن کے صحرا میں کیے گئے خود کش حملے میں سات افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top