The news is by your side.

Advertisement

کرونا وبا سے متعلق احتیاط کا دامن نہ چھوڑا جائے، عالمی ادارۂ صحت

جنیوا: عالمی ادارہ صحت نے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ کووڈ نائینٹین کے خلاف جاری احتیاط میں کسی کمی کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس نے جنیوا میں معمول کی نیوز کانفرنس کی جہاں انہوں نے برطانیہ کی جانب سے کرونا وائرس کے خلاف ویکسین کے استعمال کی منظوری کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اب سرنگ کے دوسرے سرے پر روشنی کی کرن موجود ہے۔

جنرل ٹیڈروس نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت کو کرونا وائرس کے زور پکڑتے رجحان پر تشویش ہے کہ عالمی وبا دم توڑ چکی ہے
ٹیڈروس نے نشاندہی کی کہ دنیا کے کئی حصوں میں ہسپتال، انتہائی نگہداشت کے یونٹ اور طبی کارکن کرونا کے باعث اب بھی شدید دباؤ میں ہیں،اس لئے ہر کسی کے لیے ضروری ہے کہ وہ وائرس کے خلاف جامع احتیاطی تدابیر کرے۔

اس موقع پر عالمی ادارۂ صحت کے ہیلتھ ایمرجنسیز پروگرام کے سربراہ مائیکل ریان کا کہنا تھا کہ کرونا ویکسینز کا لڑائی میں مرکزی کردار ضرور ہے لیکن صرف اس کے ذریعے عالمی وبا ختم نہیں کی جا سکتی۔واضح رہے کہ دو روز قبل برطانوی حکومت نے امریکی ادویات ساز کمپنی فائزر اور جرمنی کی بائیو این ٹیک کی تیار کردہ ویکسین کے استعمال کی منظوری دی تھی، ویکسین کی تقسیم آئندہ سال کی پہلی ششماہی میں شروع ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  برطانیہ نے کرونا ویکسین کے استعمال کی منظوری دے دی

گذشتہ ماہ ایک انٹرویو میں ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس گیبریوس کا کہنا تھا کہ کرونا بحران کے خلاف تمام ممالک کو قومی اور عالمی سطح پر متحد ہونا ہوگا، عالمی رہنماؤں کو کرونا کے حوالے سے شفافیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا، کسی بھی ملک کے رہنما کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ کرونا وبا کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کرے۔

ڈائریکٹر جنرل ڈبلیو ایچ او نے امریکی صدر کو مشورہ دیا کہ وہ کرونا کو سیاسی رنگ دینے سے باز رہیں کیونکہ اس کی وجہ سے صورت حال خراب ہوسکتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں