The news is by your side.

Advertisement

ملک میں 2 کروڑ سے زائد افراد گردوں کے امراض میں مبتلا

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ورلڈ کڈنی ڈے یا گردوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 2 کروڑ سے زائد افراد گردوں کے امراض میں مبتلا ہیں۔

گردوں کا عالمی دن منانے کا مقصد گردوں کے امراض اور ان سے حفاظت سے متعلق آگہی و شعور پیدا کرنا ہے۔ یہ دن ہر سال مارچ کی دوسری جمعرات کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔

رواں برس یہ دن ’گردوں کے امراض اور موٹاپا‘ کے عنوان سے منایا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں: موٹاپے سے 11 اقسام کے کینسر کا خطرہ

عالمی ادارہ صحت کے مطابق کینسر اور گردوں کے امراض سمیت دیگر کئی امراض سے موٹاپے کا براہ راست تعلق ہے۔ موٹاپے کا شکار افراد کو گردوں کے مختلف مسائل لاحق ہونے کا قوی امکان پیدا ہوجاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کسی شخص کے موٹا ہونے کی صورت میں اس کے گردوں کو اضافی مقدار میں خون کی صفائی کرنی پڑتی ہے جو آہستہ آہستہ گردوں کی کارکردگی کو سست کرتا جاتا ہے۔

گردوں کے امراض آگے چل کر کسی شخص میں امراض قلب، ذیابیطس، بلند فشار خون، کولیسٹرول میں اضافے، مختلف اقسام کے کینسر اور ذہنی امراض کا سبب بن سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت 640 ملین بالغ افراد اور 110 ملین بچے موٹاپے کا شکار ہیں جس کے باعث وہ کئی اقسام کے خطرناک امراض کے خطرے کی براہ راست زد میں ہیں۔

مزید پڑھیں: موٹاپے میں مبتلا کرنے والی 7 انوکھی وجوہات

ماہرین کا کہنا ہے کہ موٹاپے میں کمی کرنا گردوں کے امراض میں مبتلا ہونے کے امکان میں بھی کمی کر سکتا ہے۔

پاکستان میں تشویشناک شرح

پاکستان میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ محکمہ صحت کے مطابق پاکستان میں 2 کروڑ کے قریب افراد گردے کے مختلف امراض میں مبتلا ہیں اور ایسے مریضوں کی تعداد میں سالانہ 15 سے 20 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق گردوں کے امراض سے بچنے کے لیے پانی کا زیادہ استعمال، سگریٹ نوشی اور موٹاپے سے بچنا ازحد ضروری ہے۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ خصوصاً گرمی میں گردے کے مریضوں کو زیادہ پانی پینا چاہئے تاکہ پیشاب میں پتھری بنانے والے اجزا کو خارج ہونے میں مدد ملتی رہے کیونکہ یہی رسوب دار اجزا کم پانی کی وجہ سے گردے میں جم کر پتھری کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔

گردے کے امراض کی بر وقت تشخیص کے لیے باقاعدگی سے بلڈ، شوگر، بلڈ پریشر، یورین ڈی آر اور الٹرا ساؤنڈ کروانا بھی ضروری ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں