The news is by your side.

Advertisement

جگر کا دن: پاکستان ہیپاٹائٹس کے مریضوں کا شکار دوسرا بڑا ملک

جگر ہمارے جسم کا دوسرا بڑا اور نظام ہاضمہ میں اہم کردار ادا کرنے والا عضو ہے۔ ہم جو بھی شے کھاتے ہیں، چاہے غذا ہو یا دوا، وہ ہمارے جگر سے گزرتی ہے۔

اگر جگر کی صحت کا خیال نہ رکھا جائے تو یہ باآسانی خراب ہو کر ہمیں بہت سے امراض میں مبتلا کرسکتا ہے۔ ہر سال 19 اپریل کو جگر کی حفاظت اور صحت کا شعور اجاگر کرنے کے لیے جگر کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

جگر کا ایک عام مرض ہیپاٹائٹس ہے جو بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں ہر 30 سیکنڈ میں ایک شخص ہیپاٹائٹس کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں لوگوں کو موت کے منہ میں پہنچانے والی، ٹی بی کے بعد ہیپاٹائٹس دوسری بڑی بیماری ہے۔ دنیا بھر میں 35 کروڑ سے زائد افراد اس مرض کا شکار ہیں اور زیادہ تر علاج سے محروم ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان ہیپاٹائٹس کے مریضوں کا شکار دوسرا بڑا ملک ہے، پاکستان میں ہر سال ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

پاکستان میں اس مرض کی صرف 2 اقسام بی اور سی کے ہی ڈیڑھ کروڑ مریض موجود ہیں۔

جگر کے امراض سے حفاظت

جگر کو مختلف امراض اور مسائل سے بچانے کے لیے مندرجہ ذیل حفاظتی تدابیر اپنانے کی ضروت ہے۔

صحت مندانہ طرز زندگی اپنایا جائے۔

گوشت، پھل، سبزی، اور ڈیری غذائیں متوازن طریقے سے کھائی جائیں تاکہ جسم کی تمام غذائی ضروریات پوری ہوں۔

خون کی منتقلی کے دوران نہایت احتیاط برتی جائے ورنہ یہ ہیپاٹائٹس کا سبب بن سکتا ہے۔

جسمانی صفائی کا خیال رکھا جائے۔

گھر سے دور ہوتے ہوئے نلکے کا پانی پینے سے گریز کیا جائے۔

تمباکو نوشی، شراب نوشی اور دیگر اقسام کی منشیات سے گریز کیا جائے۔

ورزش کو زندگی کا معمول بنایا جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں