The news is by your side.

Advertisement

نمونیا ! وہ بیماری جسے نظر انداز کرنا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے

آج دنیا بھر میں نمونیا سے آگاہی کا عالمی دن منایا گیا، اس اقدام کا اہم مقصد نمونیے کی بیماری سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر سے متعلق لوگوں میں شعور و آگاہی پیدا کرنا ہے۔

ماہرین کے مطابق نمونیا دراصل پھیپھڑوں میں ہونے والے اُس انفکیشن کو کہا جاتا ہے جو نظام تنفس کے ذریعے جسم کے اندر داخل ہوتا ہے، عام طور پر متاثرہ افراد لاعلمی کی وجہ سے نمونیا جیسی بیماری کو درانداز کرتے ہیں۔

اس بیماری کی ابتدائی علامات نزلہ اور زکام سے شروع ہوتی ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ انفکیشن پھیپھڑوں تک پہنچ کر جسم میں آکسیجن کی مقدار کو کم کردیتا ہے جس کے نتیجے میں جسمانی اعضا ناکارہ ہوجاتے اور انسان موت کا شکار ہوجاتا ہے۔

عام طور پر اس بیماری سے ہر عمر کا شخص متاثر ہوسکتا ہے البتہ یہ بیماری بچوں کو موت کی طرف جلدی دھکیلتی ہے،  بین الاقوامی ماہرین کے مطابق افریقی ممالک میں پانچ برس سے کم عمر بچوں کی اموات کی سب سے بڑی وجہ نمونیا ہی ہے۔

اسی طرح ایشیا میں بھی شیر خوار بچوں کی ہلاکت کا سبب بننے والی بیماری نمونیا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں ہر سال 70 ہزار سے زائد بچے اس بیماری کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

نمونیا کا آسان شکار کون ہیں؟

نمونیا کا شکار تمام عمر کے افراد ہوسکتے ہیں لیکن چھوٹے بچے اور معمر افراد کو یہ وائرس جلد متاثر کرتا ہے۔  ایسے لوگ جو پہلے ہی کسی مرض میں جیسے دمہ، ذیابیطس اور امراض قلب کی بیماریوں میں مبتلا رہے ہوں انہیں اگر نمونیا ہوجائے تو یہ ان کے لیے شدید خطرے کی بات ہے۔

جن افراد کی قوت مدافعت کمزور ہو وہ بھی نمونیا کے باعث موت کا شکار ہوسکتے ہیں۔

علامات کیا ہیں؟

بلغمی کھانسی

تیز بخار

سانس لینے میں دشواری

سینے میں درد

بہت زیادہ پسینا آنا

معدہ یا پیٹ کا درد

بھوک ختم ہونا

کھانسی یا بلغم کو نگلنے کی وجہ سے قے ہونا

بہت زیادہ تھکاوٹ

ذہنی، جسمانی اور جذباتی طور پر پریشانی محسوس کرنا

علاج کیا ہے؟

نمونیا کے علاج کے لیے ماہرین صحت اینٹی بائیوٹکس کا کورس تجویز کرتے ہیں جسے پورا کرنا ازحد ضروری ہے۔ اگر کورس کے دوران مریض کی حالت بہتر ہوجائے تب بھی کورس کو ادھورا نہ چھوڑا جائے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں