The news is by your side.

Advertisement

شاعری کا عالمی دن: ’کرونا وائرس کی وبا کے دوران نظمیں سکون فراہم کرسکتی ہیں‘

آج 21 مارچ کو شاعری کا عالمی دن منایا جارہا ہے، شاعری دراصل جذبات کی عکاسی، الفاظ کی کہانی کے ساتھ افراد اور قوموں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتی ہے۔

اقوام متحدہ نے آج کے دن کی منابست سے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’نظمیں ہر قسم کے مشکل وقت میں آرام فراہم کرتی ہیں، چاہیے وہ کرونا وبا کے دوران ہی کیوں نہ ہو‘۔ اقوام متحدہ نے اپیل کی کہ اس مشکل وقت میں اپنی نظمیں شیئر کریں تاکہ وہ مددگار ثابت ہوں۔

اقوام متحدہ کی ثقافتی تنظیم یونیسکو کی جنرل اسمبلی نے سنہ 1999 میں 21 مارچ کو یوم شاعری سے منسوب کرنے کی قرارداد پاس کی جس کے بعد سے اس دن کو بین الاقوامی سطح پر منایا جاتا ہے۔

اس دن کو منانے کا مقصد شاعری کی اہمیت، نوجوان شاعروں کو اپنی تصانیف متعارف کرانے کا موقع فراہم کرنا ہے تاکہ لکھنے اور پڑھنے والوں کو احساس کا جذبہ ہو، اُن کے دلوں میں گداز اور لہجے میں شائستگی پیدا ہو۔

مزید پڑھیں: اردو کے 100 مشہور اشعار پڑھیں

شاعری نے ہر شعبے میں اپنا لوہا منوایا، خواجہ فرید، بابا بلھے شاہ اور سلطان باہو کی کافیاں امن اور اسلام کے فروغ کا ذریعہ بنیں، جب ان الفاظ کو نظموں کی صورت اقبال نے لکھا تو بیداری کا کام کیا۔ فیض اور جالب کے شعروں میں جب شاعری ڈھلی تو انقلاب کا سامان مہیا کیا اور جب غالب، ساحر لدھیانوی، ناصر و فراز کو شاعری نے منتخب کیا تو پیار و الفت کی نئی کونپلوں نے جنم لیا۔

فنِ سخن نے جب عقیدت کی راہ پر سفرشروع کیا تو حفیظ تائب اور میر انیس و دبیر جیسے شعراء منظر عام پرآئے۔ شاعری کے پیچھے چاہے عقیدت کارفرما ہو یا دنیا داری بہرحال یہ سب محبت کے استعارے اور تسکین کا سامان ہیں۔

مؤرخین نے لکھا ہے کہ تیئیسویں صدی قبل از مسیح میں موجودہ ایران کی سرزمین پر واقع ایک قدیم ریاست کی شہزادی این ہیدوُآنا نے بنی نوع انسان کی تاریخ میں پہلی بار شاعری کی تھی۔

شاعری کیا ہے ؟؟

 کسی بھی انسان کے لیے اپنے احساسات و جذبات اور مشاہدات و تجربات کی عکاسی الفاظ سے کرنے کا نام شاعری ہے، ہر انسان اپنے نظریے سے سوچتا ہے لیکن حساس لوگوں کا مشاہدہ بہت ہی گہرا ہوتا ہے، شاعری کا تعلق بھی دراصل حساس لوگوں کے ساتھ زیادہ ہے لیکن اِن مشاہدات و خیالات اور تجربات کے اظہار کرنے کا طریقہ سب کا منفرد ہے۔

ہر دور کے شعرا نے اپنے کلام میں اُس دور کے حالات و واقعات کی بہترین عکاسی کی۔

شاعری کی اقسام

شاعری کی بہت سی اقسام ہیں۔ اس کی ایک قسم غزل ہے، صنف غزل قدیم اصناف سخن میں سے ایک ہے اور یہ ایک مخصوص اندازِ تحریر ہے جو شاعری کے ساتھ منسوب ہے۔ لیکن لفظ غزل صرف اردو شاعری کے ساتھ مخصوص ہے۔

مشہوراصناف میں حمد، نعت، مثنوی، مسدس، نظم پابند، نظم آزاد، نظم قصیدہ، رباعی، سلام اور گیت سرِ فہرست ہیں۔ اُردو شاعری کے بڑے شعرا برصغیر ہندوستان میں ملتے ہیں جن میں قلی قطب شاہ، میرتقی میر، مرزا اسد اللہ خاں غالب، داغ دہلوی، بہادرشاہ ظفر، جون ایلیا اور دیگر کے نام سرِفہرست ہیں۔

تقسیمِ ہندوستان کے بعد بہت سے شعراء بامِ شہرت کے عروج پر فائز ہوئے جن میں فیض احمد فیض، حسرت موہانی، ابنِ انشا، حبیب جالب، شکیب جلالی، ناصر کاظمی، محسن نقوی،احمد فراز، منیر نیازی، پروین شاکر، قتیل شفائی، افتخار عارف، حمایت علی شاعر جیسے عظیم نام شامل ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں