The news is by your side.

Advertisement

سوچ میں تبدیلی پولیو کے خاتمے کے لیے ضروری

دنیا بھر میں آج انسداد پولیو کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ دنیا بھر میں صرف پاکستان اور افغانستان ایسے ممالک ہیں جہاں آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی پولیو جیسا مرض موجود ہے۔

سنہ 2015 میں جاری کی جانے والی رپورٹس کے مطابق یہ دو ممالک پولیو زدہ تھے تاہم رواں برس افریقی ملک نائجیریا میں بھی ایک سے 2 پولیو کیسز ریکارڈ کیے گئے جس کے بعد اب نائیجریا بھی اس فہرست میں شامل ہوگیا ہے۔

polio-1

رواں برس پاکستان میں 15 جبکہ افغانستان میں 8 پولیو کیسز ریکارڈ کیے گئے۔ پاکستان میں پولیو ویکسین حکومت کی جانب سے مفت فراہم کی جانے والی ویکسین ہے جو پولیو ورکرز گھر گھر جا کر 5 سال کی عمر تک کے بچوں کو پلاتے ہیں، تاہم اس کے باوجود پاکستان میں پولیو وائرس کی موجودگی کا سبب والدین کے توہمات اور کم علمی ہے۔

پاکستان میں پولیو کیسز کی بڑی تعداد صوبہ خیبر پختونخوا سے رپورٹ کی جاتی ہے جہاں کے غیر ترقی یافتہ اور قبائلی علاقوں میں پولیو ویکسین کو بانجھ کردینے والی دوا سمجھی جاتی ہے۔

یہی حال کراچی کے کچھ پسماندہ علاقوں کا بھی ہے جہاں پولیو ویکسین کو غیر ملکی ایجنڈے کے تحت پلائی جانے والی دوا سمجھی جاتی ہے جس میں لوگوں کو بیمار کردینے والے اجزا شامل ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: انسداد پولیو کے لیے جاپان کا پاکستان کو قرض

سر سید اسپتال کراچی کے ڈاکٹر اقبال میمن کے مطابق ایک بار جب وہ لوگوں میں پولیو کے خلاف آگاہی اور شعور بیدار کرنے کے لیے ایک مہم میں شامل ہوئے تو انہوں نے لوگوں سے یہ بھی سنا کہ ’پولیو ویکسین میں بندر کے خون کی آمیزش کی جاتی ہے جس سے ایبولا اور دیگر خطرناک امراض کا خدشہ ہے‘۔

سنہ 2014 میں پاکستان میں پولیو وائرس کے مریضوں کی تعداد 306 تک جا پہنچی تھی جو پچھلے 14 سال کی بلند ترین شرح تھی۔ اس کے بعد پاکستان پر سفری پابندیاں بھی عائد کردی گئیں تھی۔ اسی سال پڑوسی ملک بھارت پولیو فری ملک بن گیا۔

مزید پڑھیں: بھارت کا ہنگامی انسداد پولیو مہم کا اعلان

تاہم حکومتی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے چلائی جانے والی آگاہی مہمات کے باعث رفتہ رفتہ لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آنے لگی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سنہ 2015 میں پولیو کیسز کی تعداد گھٹ کر 54 ہوگئی اور رواں سال اب تک 16 کیسز ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔

polio-3

قبائلی علاقہ جات کے میڈیا آفیسر عقیل احمد نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ قبائلی علاقوں میں بھی پولیو سے بچاؤ اور قطرے پلانے کے حوالے سے سوچ میں تبدیلی آرہی ہے۔ سنہ 2014 میں بیشتر قبائلی علاقوں میں 33 ہزار 6 سو 18 بچے پولیو کے قطرے پلانے سے محروم رہ گئے۔ یہ وہ بچے تھے جن تک دشوار گزار راستوں کی وجہ سے رسائی نہ ہوسکی، یا ان کے والدین نے انہیں پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کر دیا۔

مزید پڑھیں: قبائلی علاقے میں پولیو کیسز کی شرح صفر

اس کے بعد صرف 2 سال میں ڈرامائی تبدیلی آئی اور اب پولیو کے قطرے پینے سے محروم بچوں کی شرح صرف 1 فیصد رہ گئی ہے۔

رواں برس جون میں پشاور میں پانی کے نمونوں کی جانچ کی گئی جو پولیو وائرس سے پاک پائے گئے جس کی تصدیق عالمی ادارہ صحت نے بھی کی۔

یاد رہے کہ پاکستان بھر میں صوبہ پنجاب واحد ایسا صوبہ ہے جہاں رواں برس پولیو کا کوئی کیس منظر عام پر نہیں آیا۔

آج انسداد پولیو کے عالمی دن کے موقع پر ملک بھر انسداد پولیو مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔ اس موقع پر پاکستان میں پولیو کی اعزازی سفیر آصفہ بھٹو نے ملک بھر کے والدین کو پیغام دیا کہ پولیو ویکسین کے دو قطرے دو مرتبہ ہر بچے کو پلائیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں