The news is by your side.

Advertisement

فالج سے بچاؤ کا دن: معمولی سی حرکت بڑھاپے میں فالج سے بچا سکتی ہے

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج فالج سے بچاؤ کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم میں سے ہر 4 میں سے 1 شخص کو عمر بڑھنے کے ساتھ فالج لاحق ہونے کا خطرہ ہے۔

آج کا دن منانے کا مقصد اس جان لیوا بیماری اور اس سے بچاؤ کے بارے میں شعور و آگاہی پیدا کرنا ہے۔

فالج ایک ایسا مرض ہے جو دماغ میں خون کی شریانوں کے بند ہونے یا ان کے پھٹنے سے ہوتا ہے۔ جب فالج کا اٹیک ہوتا ہے تو دماغ کے متاثرہ حصوں میں موجود خلیات آکسیجن اور خون کی فراہمی بند ہونے کی وجہ سے مرنا شروع ہو جاتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں جسم کی کمزوری اور بولنے، دیکھنے میں دشواری سمیت دیگر کئی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ اس سے جسم کا پورا، آدھا یا کچھ حصہ ہمیشہ کے لیے مفلوج ہوسکتا ہے۔

عالمی اسٹروک آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ ہم میں سے ہر 4 میں سے 1 شخص کو عمر بڑھنے کے ساتھ فالج لاحق ہونے کا خطرہ ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں معذور افراد میں سب سے زیادہ تعداد فالج سے متاثرہ افراد کی ہے۔ دنیا بھر میں ہر 10 سیکنڈ میں ایک شخص اس مرض کا شکار ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق خواتین کو فالج کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔

اس بیماری کی بڑی وجوہات میں ہائی بلڈ پریشر، مرغن خوراک، سگریٹ نوشی اور تمباکو سے تیار کردہ مواد خصوصاً گٹکا شامل ہے۔ جسمانی مشقت نہ کرنے والے لوگ جب ورزش نہیں کرتے تو یہ فالج کے لیے آسان ہدف ہوتے ہیں۔

فالج سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟

عالمی اسٹروک آرگنائزیشن کے مطابق فالج کے اس خطرے کو صرف جسمانی حرکت کے ذریعے ٹالا جاسکتا ہے، جسمانی طور پر زیادہ سے زیادہ فعال رہنا نہ صرف فالج بلکہ امراض قلب، شوگر اور دیگر کئی بیماریوں سے بچا سکتا ہے۔

اس کے لیے کسی باقاعدہ ورزش کی ضرورت نہیں بلکہ روز مرہ کے گھریلو کام، باہر کے کام جیسے سودا سلف وغیرہ لانا، دن میں کچھ وقت کی چہل قدمی اور سیڑھیاں چڑھنا اترنا بھی اس سلسلے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جسمانی طور پر فعال رہنے سے بڑھاپے میں دماغی بیماریوں جیسے الزائمر اور ڈیمینشیا سے بھی تحفظ ممکن ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں