site
stats
صحت

خودکشی کی روک تھام کا عالمی دن: پاکستان میں منفی رجحان میں اضافہ

اسلام آباد: آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں خودکشی کی روک تھام کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 10 لاکھ افراد اپنی زندگی کے خاتمہ کی کوشش کرتے ہیں۔

خودکشی کی روک تھام کے عالمی دن کو منانے کا مقصد خودکشی کے واقعات کی روک تھام کے لیے عوامی شعور اجاگر کرنا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہر روز دنیا بھر میں 3 ہزار افراد خودکشی کی کوشش کرتے ہیں۔ خودکشی کرنے والوں میں 15 سے 44 سال کی عمر کے لوگوں کی زیادہ تعداد شامل ہے۔

خود کشی کے خلاف کام کرنے والی عالمی تنظیم انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار سوسائڈ پریوینشن ۔ آئی اے ایس پی کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال 10 لاکھ سے زائد لوگ خود کشی کرتے ہیں اور ان کی تعداد جنگوں، دہشت گردی کے واقعات اور قتل کے نتیجہ میں ہلاک ہونے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

خود کشی کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ ماہرین نفسیات کے مطابق خودکشی کے 90 فیصد واقعات کا تعلق ڈپریشن سے ہوتا ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں سال بھر میں 5 ہزار سے زائد لوگ خود کشی کرتے ہیں اور اس رجحان میں اضافہ ہورہا ہے۔

پاکستانی ماہرین نفسیات کے مطابق بڑھتی ہوئی سماجی و معاشی مشکلات نے صورتحال کی سنگینی میں مزید اضافہ کردیا ہے جبکہ ان مسائل پر قابو پانے میں حکومت کی ناکامی لوگوں میں مایوسی کو بڑھاتی ہے جو بالآخر ڈپریشن میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مایوسی خود کشی کے عوامل میں سے ایک ہے کیونکہ انسان جتنا ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا ہے اس میں مایوسی اور نا امیدی اتنی ہی بڑھ جاتی ہے۔

ایک طبی ماہر کے مطابق خود کشی کے رجحان کے سدباب کے لیے لوگوں کے علم اور آگاہی میں اضافہ کرنے اور ان افراد کی مدد کرنے کی ضرورت ہے جو خود کشی کی کوشش کرچکے ہیں یا جو گھر کے کسی فرد کی خود کشی سے متاثر ہوئے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top