The news is by your side.

Advertisement

جرابیں‌ نہ ہوں تو ٹانگوں‌ کو رنگ لیں!

کہتے ہیں دوسری جنگِ عظیم کے دوران جب نائلون کی قلت ہو گئی تو اوڑھنے پہننے کی مختلف مصنوعات کی تیاری کا عمل بھی متاثر ہوا اور نائلون سے تیار کردہ ملبوسات اور آرائش و زیبائش کی مختلف مصنوعات بازار سے غائب ہوتی چلی گئیں۔

سادہ الفاظ میں‌ ہم پلاسٹک کی ایک قسم کو نائلون کہہ سکتے ہیں جو مختلف مصنوعات کی تیاری میں کام آتا ہے۔ نائلون کی تیار کردہ لاتعداد اشیا اور بے شمار مصنوعات دنیا بھر میں استعمال کی جارہی ہیں‌ اور یہی نائلون لباس کی تیاری میں بھی کام آتا ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں مغربی ملکوں اور یورپ کی خواتین میں نائلون کی لمبی جرابیں پہننے کا فیشن عام تھا۔

وہاں کے فیشن اور ثقافت کے مطابق عورتیں اسکرٹ کے ساتھ اپنی ٹانگوں پر نائلون کی مہین جرابیں پہنتی تھیں۔ گھر سے باہر نکلنے اور خاص طور پر تقریبات میں شرکت کے لیے ان جرابوں کو لباس کا لازمی جزو تصور کیا جاتا تھا۔

تب خواتین نے نائلون کی قلت کا ایک زبردست حل نکالا۔ انھوں نے ٹانگوں کو ڈھانپنے کے لیے رنگوں کا سہارا لینا شروع کر دیا۔ عورتیں پسندیدہ رنگ کا انتخاب کرکے نہایت مہارت سے مخصوص برش یا کسی کپڑے کی مدد ٹانگوں کو رنگنے کے بعد گھر سے باہر جانے لگیں۔ یہ کام اس قدر مہارت سے کیا جاتا تھا کہ پہلی نظر میں یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا تھاکہ کسی عورت نے نائلون کی جرابیں پہنی ہوئی ہیں یا جلد کو رنگا گیا ہے۔

ایک طرف تو خواتین نے اس طرح فیشن اور اپنی ضرورت پوری کی اور دوسری جانب مختلف اقسام کے رنگ بنانے والی کمپنیوں کی بھی چاندی ہو گئی۔ اس زمانے میں اشتہارات کے ذریعے ہر کمپنی عورتوں کو یہی یقین باور کرواتی تھی کہ ان کا تیار کردہ پینٹ استعمال کرنے دیکھنے والے کو یہی گمان گزرے گا کہ آپ نے نائلون کی جرابیں پہن رکھی ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں