The news is by your side.

Advertisement

ڈھائی ہزار سال قدیم دنیا کی پہلی یونیورسٹی جو پاکستان میں بنی

کیا آپ جانتے ہیں دنیا کی پہلی باقاعدہ یونیورسٹی ڈھائی ہزار سال قبل آج کے پاکستان میں قائم کی گئی تھی جہاں سے سینکڑوں ایسی شخصیات نے تعلیم حاصل کی جنہوں نے مذہبی و سیاسی، ثقافتی اور سماجی تاریخ کا رخ موڑ دیا۔

راولپنڈی سے 22 میل کے فاصلے پر شمال مغرب کی جانب موجود شہر ٹیکسلا ایک تاریخی شہر ہے جو 600 قبل مسیح میں قائم کیا گیا، تاریخ کے اوراق میں اس کا نام ٹکشاشلا ملتا ہے۔

2600 سال قبل یہاں قائم کی جانے والی درسگاہ کو دنیا کی پہلی یونیورسٹی قرار دیا جاتا ہے۔

اس یونیورسٹی میں 16 مختلف ممالک کے 10 ہزار سے زائد طالب علم زیر تعلیم رہے، جنہیں ہندو وید، فلکیات، فلسفہ، جراحت، سیاسیات، جنگ، تجارت اور موسیقی کی تعلیم دی گئی۔

بدھ ازم کی مقدس کتابوں جتاکا میں اس یونیورسٹی کو صدیوں قدیم علمی مرکز کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ ہندو مذہب کی طویل ترین اور منظوم داستان مہا بھارت میں بھی، جسے مذہبی صحیفے کی حیثیت حاصل ہے، اس یونیورسٹی کا ذکر ہے۔

یہاں سے تعلیم حاصل کرنے والے مختلف شعبوں کے ماہر، مختلف ریاستوں کے راجا اور جنگی سپہ سالار بنے جن میں سے چند قابل ذکر نام یہ ہیں۔

چانکیہ ۔ وشنو گپت جو بعد میں چانکیہ کے نام سے مشہور ہوا، تاریخ کا مشہور جنگی حکمت ساز، مدبر اور فلسفی ہے جس نے ارتھ شاستر جیسی معرکۃ الآرا کتاب لکھی، جنگی اور معاشی حکمت سازی پر لکھی گئی یہ کتاب آج بھی عسکری و سیاسی فیصلہ سازی میں استعمال کی جاتی ہے۔

جتوپل ۔ قدیم بنارس کا کمانڈر ان چیف بنا

جیواکا ۔ گوتم بدھ کا طبیب بنا

پنینی ۔ ماہر لسانیات جس نے سنسکرت زبان میں خاصی تبدیلیاں کیں

چراکا ۔ قدیم طبی طریقہ علاج آیور ویدا کے بانیوں میں سے ایک

اس عظیم درسگاہ کے کھنڈرات آج بھی ٹیکسلا میں موجود ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں