The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کا وہ شہر جس نے پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا

ایک ایسے وقت میں جب دنیا کے مختلف حصوں کو کلائمٹ چینج کی وجہ سے گرمی کی لہروں یعنی ہیٹ ویوز نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے،، وہیں پاکستان کے ایک شہر کے رہنے والوں کے لیے اتنی گرمی ایک معمول ہے۔

یہ ہے صوبہ سندھ کا شہر جیکب آباد، جہاں درجہ حرارت اس حد تک چلا جاتا ہے کہ جسے انسان کی برداشت سے باہر سمجھا جاتا ہے۔

جیکب آباد میں درجہ حرارت ہر سال 52 درجہ سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر جاتا ہے، جس کی بدولت یہ شہر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کا گرم ترین شہر سمجھا جاتا ہے۔ ایسی گرمی کا سامنا صرف متحدہ عرب امارات کا شہر راس الخیمہ ہی کرتا ہے۔

جس شخصیت کے نام پر یہ شہر موجود ہے یعنی جنرل جان جیکب، وہ بھی یہاں کی گرمی ہی کے ہاتھوں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، آج یہاں کی آبادی 2 لاکھ سے زیادہ ہے۔

بین الاقوامی ویب سائٹ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق حال ہی میں جیکب آباد میں درجہ حرارت 52 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی آگے نکل گیا تھا۔ اگر انسان کی جسمانی ساخت کو دیکھا جائے تو یہ 52 ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی برداشت نہیں کر سکتا۔ لیکن جیکب آباد میں زیادہ تر لوگ ایئر کنڈیشنر کی سکت نہیں رکھتے اور عام پنکھوں، برف اور پانی سے ہی کام چلاتے ہیں اور اگر ایئر کنڈیشنر خریدنے کی سکت ہو بھی تو بجلی کی بندش کے مسائل الگ ہیں۔

جیکب آباد دریائے سندھ کی وادی میں خط سرطان سے اوپر واقع ہے اور اس کا محل وقوع ایسا ہے کہ گرمی کے مہینوں میں سورج عین اس شہر کے اوپر سے گزرتا ہے۔ اس کی بدولت ہونے والی گرمی اور اس پر بحیرہ عرب کی مرطوب ہوا، دونوں مل کر خوب قہر ڈھاتے ہیں۔

شہر اور اس کے گرد و نواح کی آبادی کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے۔ تھوڑی بہت حیثیت رکھنے والے افراد تو گرمیاں شروع ہوتے ہی کوئٹہ اور کراچی جیسے شہروں کی جانب منتقل ہو جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ایک بڑا حصہ شہر ہی میں رہتا ہے اور اس گرمی کا سامنا کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے اس گرمی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

لف برا یونیورسٹی میں کلائمٹ سائنس کے لیکچرر ٹام میتھیوز کہتے ہیں کہ دنیا بھر می آب و ہوا کی تبدیلی کے تناظر میں جہاں سب سے زیادہ تبدیلیاں رونما ہوں گی، وہ علاقہ بلاشبہ وادئ سندھ کا یہ علاقہ ہے۔ یہاں موسمیاتی تبدیلی کے بد ترین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اس شہر کو ماضی میں بھی شدید ترین گرمیوں کا سامنا رہا ہے۔ جولائی 1987 کے بعد جون 2005، جون 2010 اور پھر جولائی 2012 میں یہاں گرمی کی شدید لہریں آئیں۔ غیر معمولی گرمی کی یہ لہریں ایسی تھیں کہ ان کے دوران 2010 اور 2012 کے تین دن کا اوسط درجہ حرارت ویٹ بلب ٹمپریچر پر 34 درجہ سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گیا جو انسانوں کے لیے انتہائی خطرناک اور مہلک ہے۔

سائنس ایڈوانس نامی جریدے میں شائع ہونے والی ٹام میتھیوز اور ان کی ٹیم کی تحقیق کے مطابق جیکب آباد اور راس الخیمہ کے علاوہ گرمیوں میں بھارت کے مشرقی ساحل اور شمال مغربی علاقوں کے علاوہ پاکستان میں بھی کئی مقامات پر ویٹ بلب ٹمپریچر 31 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے۔ 2015 میں پاکستان اور بھارت میں گرمی کی دو شدید لہریں آئیں جن میں 4 ہزار افراد مارے گئے تھے۔

دنیا کے جن دیگر حصوں کو غیر معمولی گرمیوں کا سامنا ہے ان میں بحیرہ قلزم کے ساحل، خلیج کیلی فورنیا اور خلیج میکسیکو کے جنوبی علاقے شامل ہیں۔ حال ہی میں کینیڈا کے صوبہ برٹش کولمبیا کے ایک شہر لٹن میں درجہ حرارت 49.6 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا جس کے بعد جنگلات میں آگ لگ گئی اور ایک ہزار سے زائد افراد بے گھر بھی ہوئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں