The news is by your side.

Advertisement

دنیا کا ’تنہا اور اداس ترین‘ بھالو

چین کے ایک شاپنگ مال میں ایک برفانی ریچھ کو رکھا گیا ہے جسے دنیا کے ’تنہا اور اداس ترین‘ جانور کا نام دیا گیا ہے۔

یہ ریچھ جس کا نام ’پزا‘ ہے چین کے مشرقی صوبے گونگ ژو کے ایک شاپنگ مال میں رکھا گیا ہے۔ جس جگہ اسے رکھا گیا ہے اسے گرینڈ ویو ایکوریم کا نام دیا گیا ہے اور اس جگہ کا رقبہ 40 اسکوائر میٹر ہے۔ پزا اس شیشے کے بنے ایکوریم میں اکیلا رہتا ہے اور اس کا زیادہ تر وقت اداسی سے چہل قدمی کرتے ہوئے گزرتا ہے۔

bear-7

ایکوریم کی انتظامیہ کے مطابق اس بھالو کی پیدائش مصنوعی طریقہ سے عمل میں لائی گئی ہے۔ اسے جس جگہ رکھا جاتا ہے وہاں کا درجہ حرارت 18 ڈگری سیلسیئس رکھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: انسانوں کی صحبت میں خوش رہنے والا بھالو

یہاں آنے والے افراد شوق سے پزا کو دیکھتے اور اس کے ساتھ تصویریں بناتے ہیں۔

تاہم جنگلی حیات کے ماہرین پزا کے رہائشی مقام پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ایک ایسی جگہ پر جو نسبتاً گرم ہے ایک برفانی ریچھ کو رکھنا درست ہے یا نہیں۔

bear-6

ایکوریم کا دورہ کرنے والے افراد بھی انہی خیالات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ ایک شخص کے مطابق پزا کے لیے یہ جگہ نہایت چھوٹی ہے۔ وہ پریشان اور اداس نظر آتا ہے اور یہاں سے آزادی چاہتا ہے۔

اس بارے میں ایکوریم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ چونکہ پزا مصنوعی طریقہ سے پیدا ہوا ہے، اور اس نے کبھی کسی حقیقی برفانی جگہ کا دورہ نہیں کیا، لہٰذا اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ حقیقی برفانی مقام پر ہے یا مصنوعی۔

bear-5

ان کے مطابق پزا کا ہر ماہ باقاعدگی سے طبی معائنہ کیا جاتا ہے اور اس کی خوراک پر سالانہ 1 لاکھ 20 ہزار یان (چینی کرنسی) خرچ کیے جاتے ہیں۔

تاہم ماہرین نے اس توجیہہ کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ورلڈ اینیمل پروٹیکشن کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق بے شک اسے مصنوعی طریقہ سے اس دنیا میں لایا گیا لیکن اسے اس کے فطری ماحول اور ہم نسل جانداروں کے ساتھ ہی رکھا جانا چاہیئے۔

bear-4

ان کے مطابق ایک پرسکون جگہ پر رہنے والے جانور کو اس طرح لوگوں کے ہجوم میں رکھنا اس کی صحت و نفسیات پر منفی اثر ڈالے گا اور اس کی طبعی عمر کو کم کردے گا۔

ہانگ کانگ کے ایک فلاحی ادارے، اینیملز ایشیا نے اس سلسلے میں ایک دستخطی مہم کا آغاز کیا ہے تاکہ انتظامیہ پر اس ایکوریم کو بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاسکے۔ اب تک 5 لاکھ لوگ اس پر دستخط کر چکے ہیں۔

bear-3

مہم کے سربراہ ڈیو نیل نے اس سلسلے میں لوگوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس بھالو کو دیکھنے نہ جائیں تاکہ انتظامیہ اسے آزاد کرنے پر مجبور ہوجائے۔ ان کے مطابق برفانی بھالو کو قیدی بنا کر رکھنا سب سے مشکل کام ہے۔

ایکوریم کی انتظامیہ اس تمام مخالفت سے بے نیاز پزا کے لیے ایک آؤٹ ڈور جگہ بنانے کا ارادہ کر رہی ہے جبکہ وہ مستقبل قریب میں پزا کو ایک ساتھی مہیا کرنے کے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں۔

bear-2

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس بھالو کو یہاں رکھنے کے لیے انہوں نے تمام قانونی تقاضے پورے کیے ہیں اور تمام مطلوبہ پرمٹس حاصل کرلیے ہیں۔

دوسری جانب اس تمام جھگڑے سے بے پرواہ پزا اپنا زیادہ تر وقت لیٹ کر یا لوگوں کو اداس نگاہوں سے دیکھ کر گزارتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں