The news is by your side.

Advertisement

یمنی بچہ والدہ سے ملاقات کے بعد دنیا سے رخصت ہوگیا

واشنگٹن : امریکی اسپتال میں زیر علاج یمنی بچہ عبداللہ حسن اپنی والدہ سے ملاقات کے کچھ روز انتقال کرگیا۔

تفصیلات کے مطابق یمنی خاتون شائمہ صالح گذشتہ ایک برس سے امریکا جانے کے لیے ویزے کی درخواست دے رہی تھی لیکن ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ’مسلم بین‘ مہم چلائے جانے کے باعث ویزہ نہیں مل رہا تھا، طویل مدت کے بعد ماں بیٹے میں ملاقات ہوئی تاہم ماں اپنے لخت جگر کے ساتھ زیادہ وقت نہ گزار سکی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ دو سالہ عبد اللہ حسن پیدائشی طور پر دماغی کینسر ’ہائپومائلینیشن‘ میں مبتلا تھا، یمنی بچہ کیلیفورنیا کے اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گیا۔

عبداللہ کے والد کا کہنا ہے کہ ’ہم انتہائی غم و رنج میں ہیں، عبداللہ ہماری زندگی کا نور تھا، ہمیں اپنے بیٹے کو خدا حافظ کہنا پڑا۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ عبداللہ اور اس کا والد علی حسن امریکی شہری ہیں لیکن ان کی زوجہ کے پاس امریکی شہریت نہیں ہے۔

خیال رہے کہ کمسن بچے کی حالت بگڑنے پر ماں نے دوسری مرتبہ ویزے کی درخواست دی جسے مسلم بین مہم کے باعث مسترد کردیا گیا جس پر وہ یمن سے مصر منتل ہوگئی۔

شائمہ صالح کی فریاد سوشل میڈیا پر پہنچی کو کہرام مچ گیا، ہزاروں کی تعداد میں امریکی حکام کو کانگریس اراکین اور عوام کے ای میل اور ٹویٹ موصول ہوئے جس میں متاثرہ خاندان کی حمایت کی گئی تھی اور امریکی حکام کو مجبور ہوکر شائمہ صالح کو امریکا کا ویزہ جاری کرنا پڑا۔

مزید پڑھیں : یمنی ماں بیٹے کا آخری دیدار کرنے امریکا پہنچ گئی

یاد رہے کہ عبداللہ صالح پیدائشی طور پر دماغ کے موذی مرض میں مبتلا تھا جس کے باعث ڈاکٹر نے والدین کو بچے کے مستقبل سے پہلے ہی آگاہ کردیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں