The news is by your side.

Advertisement

سال 2016: کراچی میں ڈکیتی کی وارداتوں میں اڑتیس فیصد اضافہ

کراچی : اسٹریٹ کرائم کے حوالے سے کراچی والوں پر دوہزار سولہ بھاری گزرا، کراچی کی سڑکوں پر ڈکیتی کی ورداتوں میں اڑتیس فیصد اضافہ ہوا۔ سی پی ایل سی کے سربراہ زبیر حبیب کا کہنا ہے کہ کراچی کے شہری تھانے جانے سے ڈرتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں اسٹریٹ کرائم کا جن دوہزار سولہ میں بھی بےقابو رہا۔ سی پی ایل سی نے کراچی پولیس کا کچا چٹھا کھول دیا۔

سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوہزار سولہ میں گن پوائنٹ پر انیس ہزار سے زائد شہریوں کو موبائل فون سے محروم کیا گیا۔ بائیس ہزار سے زائد موٹر سائیکلیں چوری ہوئیں۔

اس کے علاوہ کراچی میں چار سو انیس افراد قتل ہوئے۔ بھتے کی ایک سو چھ شکایت ملیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کراچی میں بینک ڈکیتی کی بارہ وارداتیں ہوئیں۔

مزید پڑھیں : کراچی: اسٹریٹ کرائم میں کالعدم تنظیم کے کارندے ملوث

سی پی ایل سی کی سالانہ رپورٹ میں دو اہم باتیں سامنے آ ئیں ہیں۔ اوّل یہ کہ کراچی کے شہری تھانے جانے سے ڈرتے ہیں انہیں پولیس پر اعتماد نہیں۔ جبکہ کراچی میں گھر سے بھاگ جانے والی بچیوں کے کیسز بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: کراچی کےاسٹریٹ کرائم میں بچوں کے استعمال کا انکشاف

دوہزار سولہ میں مسنگ گرلز کے ایک ہزار کیسز رپورٹ ہوئے۔ زیادہ کیسز موبائل فون پر دوستی کرنے والی کم عمر لڑکیوں کے ہیں۔ کراچی میں لاپتہ بچوں کے تین سو کیسز رپورٹ ہوئے۔ اور سی پی ایل سی نے پولیس اور رینجرز کے ساتھ مل کر اغواء کاروں کے تیرہ گینگز کا خاتمہ کیا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں