The news is by your side.

Advertisement

سعودی اتحادی افواج کی حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی

صعناء :  سعودی اتحادی افواج نے یمنی باغیوں کے خلاف زمینی کارروائیوں کو وسیع کرتے ہوئے فضائی اور سمندری حدود سے بھی حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر حملے شروع کردیئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی حمایت یافتہ حوثی جنگجؤوں کو اتحادی افواج کی جانب سے انخلا کے لیے دی گئی مہلت ختم ہونے پر سعودی اتحادی افواج نے یمن کی انتہائی اہم بندر گاہ الحدیدہ پر حملہ کردیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ یمن میں انسانی بنیادوں پر سامان اور امدادی اشیاء کی فراہمی کا اہم مرکز الحدیدہ بندر گاہ ہے۔

یمنی خبر رساں اداروں کے مطابق سعودی اتحادی افواج نے زمینی کارروائیوں کا دائرہ بڑھاتے ہوئے فوجی آپریشن میں فضائی اور سمندری افواج کی مدد بھی حاصل کرلی ہے، جس کے بعد فضا اور سمندر سے بھی حوثیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق الحدیدہ شہر کے باسیوں کا کہنا ہے کہ سعودی اتحادی افواج کی کارروائیوں کے باعث شہر کے مضافات میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

یمن میں امدادی سرگرمیاں انجام دینے والی ایجنسیوں نے شہر پر حملے کی صورت میں ڈھائی لاکھ افراد کی زندگی ضائع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، امدادی ٹیموں نے کہا ہے کہ سعودی افواج کی شہر پر کارروائی بڑی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق یمن جنگ میں 70 لاکھ سے زائد شہری امدادی اشیا اور خوراک پر منحصر ہیں۔

حوثی باغیوں کے خلاف عسکری آپریشن کا آغاز کرنے سے پہلے یمنی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ الحدیدہ سے حوثی ملیشیا کو بے دخل کرنے کے لیے استعمال کیے گئے تمام سیاسی وسائل اور مہلتیں ختم ہوچکی ہیں۔

یمن کے صدر منصور الہادی کی جانب سے بیان میں کہا گیا تھا کہ الحدیدہ کی آزادی یمن میں حوثیوں کی شکست کا آغاز ہوگا اور بحرہ باب المندب میں جہاز رانی دوبارہ محفوظ ہوجائے گی۔

منصور الہادی کا کہنا تھا کہ ’حوثیوں کی شکست کے ساتھ ہی ایران کے ہاتھ بھی کٹ جائیں گے، جن سے ایران نے یمن کے باغیوں کو اسلحہ و گولہ بارود فراہم کرکے پُر امن یمن کو خون میں نہلا دیا اور بچوں تک کے ہاتھوں میں اسلحہ دے کے ملک کو ہتھیاروں میں غرق کردیا‘۔

یمنی صدر منصور ہادی کی حمایت میں متحدہ عرب امارات نے حوثی باغیوں کو وارننگ دی تھی کہ الحدیدہ کو خالی کردیں ورنہ زبردست حملے کے لیے تیار ہوجائیں۔

متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر خارجہ انور قرقاش نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ’ہم چاہتے تھے کہ الحدیدہ بندر گاہ کی ذمہ داری اقوام متحدہ کے ہاتھ میں ہو۔

خیال رہے کہ یمن جنگ میں گذشتہ تین برسوں کے دوران 10 ہزار سے زائد بے گناہ شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں، جس کے بعد اقوام متحدہ نے یمن کی موجودہ صورتحال کو ’بدترین انسانی تباہی‘ کہا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں