The news is by your side.

Advertisement

یمن میں دھڑ جڑے بچے طبی امداد نہ ملنے پر جاں بحق

صنعا: یمن میں خانہ جنگی کے باعث دھڑ جڑے بچوں کو علاج کی غرض سے بیرون ملک منتقل نہ کیا جاسکا جس کے نتیجے میں دونوں بچے دار فانی سے کوچ کرگئے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنگ زدہ یمن کے شہر صنعا میں دھڑ جڑے بچوں کی پیدائش ہوئی تھی جن کو آپریشن کے ذریعے علیحدہ کیا جانا تھا تاہم بیرون ملک یا کسی بہتر اسپتال منتقل نہ کرنے کے سبب دونوں بچے جاں بحق ہوگئے۔

یمن میں سعودی عرب کے کنگ سلمان ریلیف سینٹر کے ترجمان عبداللہ الربیع نے دعویٰ کیا ہے کہ طبی ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم ترتیب دے دی گئی تھی، ٹیم نے بچوں کا مقامی اسپتال میں ہی آپریشن تھا تاہم حوثی باغیوں نے اسپتال تک رسائی دینے سے انکار کردیا۔

مزید پڑھیں: یمن : میڈیکل ٹیم دھڑ جڑے بچوں کو بچانے کیلئے کوشاں

واضح رہے کہ ڈاکٹر فیصل البابلی کا کہنا تھا کہ ایک دھڑ سے جڑے ہوئے بچوں کو علیحدہ کرنے کے لیے مطلوب آپریشن کی سہولیات یمن میں میسر نہیں، اس لیے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بچوں کو بیرون ملک منتقل کرنے کا انتظام کریں۔

ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ بچوں کو دو ہفتوں سے مصنوعی سانس فراہم کی جارہی تھی تاکہ وہ زندہ رہ سکیں۔

عرب میڈیا کے مطابق ڈاکٹرز نے بتایا تھا کہ ایسے کیسز بہت کم سامنے آتے ہیں، مذکورہ بچوں کا جگر، گردے، ہاتھ اور ٹانگیں ایک ہی ہیں۔

ڈاکٹر عبداللہ نے واضح کیا تھا کہ گزشتہ تین برس کے دوران شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کی ہدایات پر صنعاء، صعدہ اور تعز سے تعلق رکھنے والے کئی جڑواں جڑے ہوئے بچے اور بچیوں کا سعودی عرب میں آپریشن کیا جا چکا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں