اٹھائیس مئی انیس سو اٹھانوے قومی تاریخ کا ایک عظیم دن ہے، آج سے تئیس برس پہلے پاکستان دنیا کی ذمہ دار جوہری قوت کےطورپر سامنے آیا۔
بائیس برس قبل ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان نے مسلم دنیا کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ ایٹمی دھماکے اس لیے کیے گئے کہ گیارہ مئی انیس سو اٹھانوے کو پوکھران میں تین بم دھماکے کرکے بھارت نے خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔
بھارتی قیادت کی جانب سے ایٹمی دھماکے کے بعد پاکستان کو خطرناک دھمکیوں کا سلسلہ بھی شروع ہوا، ایک طرف بھارت دھمکیوں اور اسرائیل کی مدد سے پاکستان کی ایٹمی تجربہ گاہوں پرحملے کی تیاری کررہا تھاتو دوسری جانب مغربی ممالک پابندیوں کی دھمکی دے کرپاکستان کو ایٹمی تجربے سے بازرکھنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔
پسِ منظر
پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خالق ڈاکٹرعبدالقدیر نے 1974 میں وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کو خط لکھ کرایٹمی پروگرام کے لیے کام کرنے کی پیشکش اور اسی سال کہوٹہ لیبارٹریز میں یورینیم کی افزودگی کا عمل شروع کردیا گیا۔ پاکستانی سائنسدانوں نے انتہائی مشکل حالات کے باوجود ایٹمی پروگرام کو جاری رکھا اورملک کو جدید ترین ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ممالک میں شامل کیا۔
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اس وقت ایک سو سے زائد ایٹمی وارہیڈز رکھتا ہے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شدید عالمی دباؤ کے باوجود تیزی سے جاری ہے اور پاکستان ہرسال اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے میں دس نئے ایٹم بموں کا اضافہ کرلیتا ہے۔
ایک جانب تو یہ ایٹمی بم بھارت جیسے جنگ پسند ملک کے مدمقابل پاکستان کی پر وقار سالمیت کو یقینی بنائے ہوئے ہے لیکن اس مہنگے ترین ہتھیار کی تیاری اور اس کی حفاظت کی وجہ سے پاکستان معاشی ترقی کے وہ اہداف حاصل نہیں کرسکا جو اسے اب تک کرلینے چاہئے تھے بلکہ بعض میدانوں میں تو پاکستان جہاں تھا وہاں سے بھی پیچھے چلا گیا۔
پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع دن سے ہی عالمی سازشوں اور شدید تنقید کا شکار ہے۔ پاکستانی کی ایٹمی طاقت کئی عالمی طاقتوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی اور یہی وجہ ہے کہ کچھ عرصے بعد باقاعدہ مخالفانہ مہم چلائی جاتی ہے۔
حکومت اورپوری قوم کا فرض ہے کہ ملکی سلامتی کی علامت اس ایٹمی پروگرام کی حفاظت اور ترقی کے لیے ہر ممکن قربانی دینے کے لیے تیاررہیں اور یہی آج کے دن یعنی یومِ تکبیرکا پیغام ہے۔


