The news is by your side.

Advertisement

اسپتالوں میں او پی ڈیز بند، حکومت اور ڈاکٹروں کی لڑائی میں شہری رل گئے

کراچی : اندرون اور کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال جاری ہے ،اوپی ڈیز بند ہونے کی وجہ سے مقامی مریضوں سمیت دیہی علاقوں سے آنے والے مریضوں کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اندرون سندھ اور کراچی کے اسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز نے پھر ہڑتال کردی، اوپی ڈیز اور آپریشن تھیٹر بند ہیں، حکومت اور ڈاکٹروں کی لڑائی میں بیمار شہری رل گئے، بیمار بچے روتے تڑپتے رہے جنہیں دیکھ کر والدین شدید ذہنی اذیت میں ہیں، مگر بےحس ڈاکٹروں کی ہڑتال تاحال جاری ہے اور سندھ حکومت بھی اپنے وعدے پر عمل کرنے سے گریزاں ہے۔

صرف کراچی کے جناح اسپتال میں روزانہ ڈیڑھ سو آپریشن اور پانچ ہزار سے زائد مریضوں کی او پی ڈی ہوتی ہے مگر اب ان شعبہ جات پر لگے تالے عوام کو مزید تکلیف میں مبتلا کر رہے ہیں۔

این آئی سی ایچ میں گھوٹکی سے آئے دو بچوں کے والد غم وغصے سے پھٹ پڑے اور انتظامیہ پر اپنے شدید غصے کا اظہار کیا، دیگر مریضوں کا بھی کہنا تھا کہ خدارا بچوں کا علاج تو نہ روکیں یہ کیسی انسانیت ہے؟ دوسری جانب مریضوں کی پریشانی بھی مسیحاؤں کے دل نرم نہ کرسکی۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو ایمرجنسی کا بھی بائیکاٹ کردیں گے۔ اس حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔

اسپتال میں شہری زندگی اورموت کی کشمکش میں ہیں تاہم وزیراعلیٰ سندھ نے معاملہ محکمہ صحت پر ڈال کر اپنی ذمہ داری پوری کردی۔ گزشتہ ہفتے سندھ حکومت نے ڈاکٹرز کے مطالبات کی منظوری دی تھی لیکن نوٹی فکیشن جاری نہ ہونے پر ڈاکٹروں نے دوبارہ ہڑتال شروع کردی۔

مزید پڑھیں: ینگ ڈاکٹرز نے ایک بار پھر سندھ بھر کے اسپتال بند کرنے کا اعلان کردیا

ینگ ڈاکٹرز کا مطالبہ ہے کہ ان کی تنخواہیں پنجاب کے ینگ ڈاکٹرز کے مساوی کی جائیں۔ اس حوالے سے گزشتہ دنوں حکومت سندھ اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے درمیان مذاکرات میں معاملات طے پاگئے تھے تاہم مقررہ وقت پر نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے پر ڈاکٹر ایک بار پھر سراپا احتجاج ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں