The news is by your side.

Advertisement

لاہور: ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج پانچویں روز جاری

لاہور: صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج مسلسل پانچویں روز جاری ہے جس کی وجہ سے مریضوں اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامناہے۔

تفصیلات کےمطابق گزشتہ روز پنجاب حکومت نے احتجاج کرنے والے 18 ڈاکٹروں کو برطرف،31 نرسوں کو معطل اور 18 نرسوں کو شوکاز جاری کیے تھے جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے مزید ڈاکٹروں اور نرسوں کو طبی خدمات کے لیے طلب کرلیاتھا۔

خیال رہے کہ دو روز قبل ڈاکٹرز کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے تھے اور انہیں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تھی جس کے باوجود ڈاکٹرز کی جانب سے جواب جمع نہیں کرائے گئے جس پر سیکریٹری صحت پنجاب نےگزشتہ روز 10 ڈاکٹرز کو برطرف اور 21 نرسوں کو شوکازنوٹس جاری کیے تھے۔

مزید پڑھیں:لاہور میں دھرنا دینے والے 10ڈاکٹرز برطرف

سیکریٹری صحت پنجاب کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز اگر نوکری پر واپس نہیں آئیں گے اوران کی جانب سے جواب نہیں جمع کروایا گیا تو ڈاکٹروں اور نرسوں کو نوکری سے فارغ کردیا جائےگا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ 45 نئے ڈاکٹرز کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جن میں 35 نئے ڈاکٹرز نے نوکری جوائن بھی کرلی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کےمشیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز سے کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے کیونکہ ان کے مطالبات درست نہیں اور اگر یہ نوکری پر واپس نہ آئے تو ان کو بھی برطرف کردیا جائے گا۔

واضح رہے کہ لاہور میں ینگ ڈاکٹرز کے احتجاج کے باعث ڈیڑھ سالہ ثنا سمیت دوافراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں