The news is by your side.

Advertisement

باکمال نوجوان جس پر سانپوں کا زہر بھی اثر نہیں کرتا!

بھارت میں جنگلی حیات کے تحفظ کے ماہر واوا سریش کی سانپوں سے اتنی دوستی ہے کہ زہریلے سانپ اسے ہزاروں بار ڈس چکے لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔

غیرملکی ویب سائٹ کے مطابق بھارتی ریاست کیرالہ میں سانپ پکڑنے کے حوالے سے مشہور جنگلی حیات کے تحفظ کے ماہر نوجوان ’’واوا سریش‘‘ کو زہریلے سانپ ایک یا دو بار نہیں 3 ہزار بار ڈس چکے ہیں لیکن اس کی سانپوں سے دوستی ختم نہیں ہوتی۔

واوا سریش کو حال ہی میں بلیک کوبرا نے اس وقت کاٹ لیا جب وہ ضلع کوٹائم کے ایک گھر میں اسے پکڑنے کی کوشش کررہے تھے۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق سانپ کے کاٹنے کے بعد واوا سریش نے اپنے زخم پر پٹی باندھی اور کوبرا کی تلاش میں دوبارہ مصروف ہوگیا اور اسے پکڑنے کے بعد خود اسپتال جاکر داخل ہوا۔

سانپوں کا دوست واوا سریش ہے کون اور اسے ’’مگرمچھوں کے شکاری اسٹیو ارون سے کیوں ملایا جاتا ہے اور اتنی شہرت کی وجہ کیا ہے؟

تو وجہ ہے ان کی سانپوں سے دوستی جو ان کے بچپن سے شروع ہوئی اور اب تک جاری ہے۔

اسنیک ماسٹر کہلائے جانے والے واوا سریش صرف انہیں پکڑتے ہیں نہیں بلکہ ان مہلک زہریلے جانوروں کو پالتو جانوروں کی طرح پالا ہوا بھی ہے۔

واوا سریش کا تعلق ترواننت پورم کے سریکاریم قصبے کے ایک غریب گھرانے سے ہے۔

سانپوں سے ان کی دوستی کا آغاز بچپن میں اس وقت ہوا جب  12 سال کی عمر میں  اسکول جاتے ہوئے انہوں نے  راستے میں سامنے آنے والے خطرناک کوبرا کو پکڑ لیا۔

سریش نے صرف کوبرا کو پکڑا ہی نہیں بلکہ اپنے گھر لے آیا اور بوتل میں بند کرکے اپنا مہمان بنالیا۔

اس وقت سے اب تک یہ باہمت اور باکمال نوجوان 30 ہزار سے زائد سانپوں کو پکڑ چکا ہے اس دوران 3 ہزار سے زائد بار زہریلے سانپوں نے اسے ڈسا بھی لیکن ان کا زہر اس کے شوق اور سانپوں سے محبت کو ختم نہیں کرسکا۔

واوا سریش نے اپنے اس سفر میں اب تک 200 کنگ کوبرا (کالا ناگ) کو پکڑا ہے جو کہ انتہائی خطرناک تصور کیے جاتے ہیں اور جن کے زہر کی دوا بھی آسانی سے دستیاب نہیں ہے۔

اب واوا سریش کیرالہ کے محکمہ جنگلات کی مدد کرتے ہیں اور سماجی خدمت کے طور پر سانپوں کو پکڑتے ہیں۔

کیرالہ میں جہاں بھی کوئی زہریلا سانپ دکھائی دیتا ہے تو سب کی پکار ایک ہی ہوتی ہے، واوا سریش آؤ اور ہمیں اس زہریلے سانپ سے بچاؤ۔

اس خطرناک کام کے لیے وہ کیرالہ کے تقریباْ تمام دوردراز علاقوں کا سفر کرچکے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں