ابھرتی ہوئی نوجوان خاتون کھلاڑی ’آفریدی‘ بننے کی خواہش مند -
The news is by your side.

Advertisement

ابھرتی ہوئی نوجوان خاتون کھلاڑی ’آفریدی‘ بننے کی خواہش مند

فاٹا: قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ نوجوان خاتون کھلاڑی جمائما آفریدی کرکٹ کے میدان میں شاہد آفریدی بننے کی خواہش مند ہیں۔

تفصیلات کے مطابق فاٹا کے علاقے لنڈی کوتل سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ طالبہ نے پشاور میں منعقد ہونے والی پہلی ویمنز ٹی ٹوئٹی سپر لیگ میں اپنی علاقائی ٹیم کی نمائندگی کی۔

پی ایس ایل کی طرز پر منعقد ہونے والی ٹی ٹوئنٹی لیگ میں ملک بھر سے 8 ٹیموں نے حصہ لیا تھا جن میں فاٹا اور کشمیر کی ٹیمیں بھی شامل تھیں۔

برطانوی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق فاٹا کی ٹیم میں ویسے تو کئی خواتین کھلاڑی شامل ہیں مگر جمائما وہ واحد کرکٹر ہیں جن کی پیدائش بھی اس علاقے میں ہوئی۔

جمائمہ آفریدی
تصویر بشکریہ بی بی سی

انٹرنیٹ میڈیٹ میں پڑھنے والی جمائما کی خواہش ہے کہ وہ کرکٹ کی دنیا میں شاہد آفریدی کی طرح کارکردگی دکھائیں اور اپنے ملک کا نام روشن کریں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جمائما کا کہنا تھا کہ ’مجھے بچپن سے ہی کھیل کود کا شوق تھا لیکن شاہد آفریدی کو دیکھ کر ہی کرکٹ کھیلنا شروع کی‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان میری پسندیدہ اسٹار ہیں اور میں اُن کی کی طرح جارحانہ کرکٹر بننا چاہتی ہوں‘۔

جمائما کا کہنا تھا کہ ’میں نے جب کرکٹ کی دنیا میں قدم رکھا تو بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ میرا یہ اقدام قبائلی رسومات کے خلاف تھا، میرے والد شانہ بشانہ ساتھ کھڑے رہے اور انہوں نے آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کیا‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’میں نے کرکٹ کی باقاعدہ تربیت حاصل نہیں کی بلکہ والد کے ساتھ ہی گھر میں کھیلتی رہی حالانہ میرے ابو کوئی کوئی پیشہ ور کرکٹر نہیں مگر وہ میرے کوچ ضرور ہیں‘۔

جمائمہ آفریدی
تصویر بشکریہ بی بی سی

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نے ٹی ٹوئنٹی لیگ میں شرکت کر کے دیگر خواتین کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کی کیونکہ بہت ساری ایسی باصلاحیت لڑکیاں موجود ہیں جو بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی کرسکتی ہیں‘۔

اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے جمائما آفرہدی کا کہنا تھا کہ ’میں قومی ٹیم میں شامل ہوکر پاکستان کا نام روشن کرنے کی خواہش مند ہوں‘۔ واضح رہے کہ جمائما اور شاہد کا تعلق بھی ’آفریدی‘ برادری سے ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں