The news is by your side.

Advertisement

یونس ایمرے: صوفی شاعر اور ایک درویش

یونس ایمرے کو ترکی، وسطی ایشیا کے ممالک میں ایک صوفی شاعر اور درویش مانا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں روحانی شخصیت کے طور پر مشہور یونس ایمرے ترکی کے ایک گاؤں میں 1238 میں پیدا ہوئے۔

کہتے ہیں وہ نہایت پُراثر لب و لہجے کے مالک اور شیریں گفتار تھے۔ 1320 عیسوی میں جب ایمرے دنیا سے رخصت ہوئے تو اناطولیہ اور اس سے باہر بھی ہر طرف ان کا چرچا تھا اور سات صدیاں بیت جانے کے بعد آج بھی وہ ترکوں کی محبوب شخصیات میں سے ایک ہیں۔ ترکی باشندوں میں یونس ایمرے کا کلام آج بھی مقبول ہے اور ان کا نام نہایت عزت اور احترام سے لیا جاتا ہے۔

ان کی مقبولیت اور پسندیدگی کا یہ عالم ہے کہ ان کا کلام، رباعیاں، گیت اور مختلف تخلیقات نہ صرف ترکی بلکہ وسط ایشیائی ممالک میں بھی زبان زدِ عام ہیں۔

ان کی قابلیت، ذہانت، روشن فکر اور اجلے کردار کی وجہ سے انھیں اناطولیہ کے ایک شہر میں قاضی کے عہدے پر فائز کیا گیا جہاں عوام میں ان کی بہت عزت اور قدر تھی۔ اسی شہر کے ایک صوفی بزرگ سے ملاقاتوں کے بعد یونس ایمرے اپنے عہدے سے مستعفی ہو کر ان بزرگ سے مذہب کی تعلیم اور روحانیت کے اسرار و رموز سیکھنے لگے۔

اس عرصے میں یونس ایمرے نے فارسی اور عربی کے ساتھ مقامی زبان اور دیہی علاقوں کی بولی میں صوفیانہ کلام اور گیت لکھے جن کو عوام نے سندِ قبولیت بخشا، یونس ایمرے کو صوفی اور درویش کہا جانے لگا۔

ترکی میں کرنسی پر تصاویر کے علاوہ کئی اہم مقامات اور عمارتوں میں ان کے مجسمے نصب ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں