The news is by your side.

Advertisement

طالبان کے طاقت کے استعمال کے حوالے سے زلمے خلیل کا دو ٹوک مؤقف

کابل: زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ طالبان نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اپنی اجارہ داری قائم کی اور اپنی حکومت تھوپی تو امریکا اُسے تسلیم نہیں کرے گا۔

تفصیلات کے مطابق غیر ملکی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے افغانستان کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے دو ٹوک مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے ہم نے طالبان پر واضح کیا ہے کہ طاقت کے زور سے حکومت بنانے والوں کو ہم اور متعدد دیگر ملک بھی نہیں تسلیم کریں گے، نہ معاونت فراہم کریں گے۔

انھوں نے کہا افغانستان میں استحکام، ترقی اور امن کے قیام کی غرض سے کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے دو امور اہم ہیں، یہ کہ یہ افغان عوام کے لیے قابل قبول ہو اور اسے پڑوسیوں، ڈونرز اور دنیا کے دیگر ملکوں کا تعاون حاصل ہو، اور اس کے لیے سیاسی معاملہ فہمی اختیار کرنے اور عوامی رائے کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ آج قطر میں افغان سیاسی قیادت اور طالبان کے درمیان مذاکرات ہوئے، جس میں فریقین نے مسائل کے حل کے لیے بات جیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا، طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر کا کہنا تھا کہ افغانستان کی سالمیت کے لیے خود مختار اسلامی نظام کی ضرورت ہے۔

قندھار میں طالبان اور افغان فورسز میں جھڑپیں، رائٹرز کا صحافی ہلاک

انھوں نے کہا کہ بداعتماد ی ختم کر کے قوم کو متحد کرنا ہوگا، اور ہمیں ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا۔

افغان مفاہمتی کونسل کے چئیرمین عبداللہ عبداللہ نے بات چیت میں تیزی لانے پر زور دیا، انھوں نے کہا افغانستان مشکل دور سےگزر رہا ہے، کشیدگی جاری ہے، شہری نشانہ بن رہے ہیں، افغانوں اور مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے۔

انھوں نے کہا مسئلے کا فوجی حل نہیں ہے، امن کے لیے دونوں اطراف سے لچک درکار ہے، جس کے لیے مذاکرات میں بھی تیزی لانی ہوگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں