The news is by your side.

Advertisement

عباسی ملکہ ’زبیدہ ‘ کا 1188 واں یومِ وفات

آج نامور عباسی ملکہ ام جعفر زبیدہ کا یوم وفات ہے، ان کا انتقال 10 جولائی 831 عیسوی کو بغداد میں ہوا تھا، ان کے انتقال کے 1188 برس بعد بھی ان کی سخاوت کے قصے زبان زد عام ہیں۔

ام جعفر زبیدہ بنت جعفر بن ابو جعفر منصورہاشمی خاندان کی چشم و چراغ تھیں۔ آپ خلیفہ ہارون الرشید کی چچا زاد بہن اور بیوی تھیں ان کا نام ” امۃ العزیز “ تھا۔ ان کے دادا منصور بچپن میں ان سے خوب کھیلا کرتے تھے، ان کو ” زبیدہ “ ( دودھ بلونے والی متھانی ) کہہ کر پکارتے تھے، چنانچہ سب اسی نام سے پکارنے لگے اور اصلی نام بھول ہی گئے۔

آپ نہایت خوبصورت اور ذہین و فطین تھیں۔ جب جوان ہوئیں تو خلیفہ ہارون الرشید سے ان کی شادی ہو گئی۔ یہ شادی بڑی دھوم دھام سے ذوالحجہ 165ھ مطابق جولائی 782ء میں ہوئی۔

ہارون الرشید نے اس شادی کی خوشی میں ملک بھر سے عوام و خواص کو دعوت پر بلایا اور مدعوین کے درمیان میں اس قدر زیادہ مال تقسیم کیا جس کی مثال تاریخ اسلامی میں مفقود ہے۔ اس موقع پر خاص بیت المال سے اس نے پانچ کروڑ درہم خرچ کیے۔ ہارون الرشید نے اپنے خاص مال سے جو کچھ خرچ کیا وہ اس کے علاوہ تھا۔

نہرزبیدہ کی تعمیر

زبیدہ بنت جعفر نے پانی کی قلت کے سبب حجاج کرام اور اہل مکہ کو درپیش مشکلات اور دشواریوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا تو انہوں نے مکہ کو پانی کی فراہمی کے لیے نہر بنوائی جسے نہر زبیدہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

عزیزیہ، مکہ میں نہر زبیدہ کا ایک ٹوٹا ہوا حصہ، اندرونی دیوار کو پلاستر سے بالکل ہموار رکھا گیا تھا۔

اس سے پہلے بھی وہ مکہ والوں کو بہت زیادہ مال سے نوازتی رہتی تھیں اور حج و عمرہ کے لیے مکہ آنے والوں کے ساتھ ان کا سلوک بے حد فیاضانہ تھا۔ اب نہر کی کھدائی کا منصوبہ سامنے آیا تو مختلف علاقوں سے ماہر انجینئر بلوائے گئے۔ مکہ مکرمہ سے 35 کلومیٹر شمال مشرق میں وادی حنین کے ” جبال طاد “ سے نہر نکالنے کا پروگرام بنایا گیا۔

ایک نہر جس کا پانی ” جبال قرا “ سے ” وادی نعمان “ کی طرف جاتا تھا اسے بھی نہر زبیدہ میں شامل کر لیا گیا یہ مقام عرفات سے 12 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع تھا۔ علاوہ ازیں منٰی کے جنوب میں صحرا کے مقام پر ایک تالاب بئر زبیدہ کے نام سے تھا جس میں بارش کا پانی جمع کیا جاتا تھا، اس سے سات کاریزوں کے ذریعہ پانی نہر میں لے جایا گیا، پھر وہاں سے ایک چھوٹی نہر مکہ مکرمہ کی طرف اور ایک عرفات میں مسجد نمرہ تک لے جائی گئی۔ اس عظیم منصوبے پر سترہ لاکھ ( 17,00,000 ) دینار خرچ ہوئے۔

جب نہر زبیدہ کی منصوبہ بندی شروع ہوئی تو اس منصوبہ کا منتظم انجینئر آیا اور کہنے لگا ،آپ نے جس نہرکا حکم دیا ہے اس کے لئے خاصے اخراجات درکار ہیں کیونکہ اس کی تکمیل کے لئے بڑے بڑے پہاڑوں کو کاٹنا پڑے گا، نشیب و فراز کی مشکلات سے نمٹنا پڑے گا اور سینکڑوں مزدوروں کو دن رات محنت کرنا پڑے گی تب کہیں جاکر منصوبہ پایہِ تکمیل تک پہنچایا جاسکتا ہے۔

یہ سن کر زبیدہ نے انجینئر سے کہا: اس کام کو شروع کرو خواہ کلہاڑے کی ایک ضرب پر ایک دینار خرچ آتا ہو اس طرح جب نہر کا منصوبہ تکمیل کو پہنچ گیا تو منتظمین اور نگران حضرات نے اخراجات کی تفصیلات ملکہ کی خدمت میں پیش کیں۔ اس وقت ملکہ دریائے دجلہ کے کنارے واقع اپنے محل میں تھیں۔ ملکہ نے وہ تمام کاغذات لئے اور انہیں کھولے بغیر دریا برد کردیا اور کہنے لگیں: الہٰی! میں نے دنیا میں کوئی حساب نہیں لیا تو بھی مجھ سے قیامت کے دن حساب نہ لینا۔

نہر زبیدہ عرفات کے قریب

بہلول سے جنت خریدنا

مشہور واقعہ ہے کہ ایک روز ملکہ زبیدہ دریائے فرات کے کنارے چہل قدمی کررہی تھیں تو اس دور کے برگزیدہ بزرگ بہلول دانا ساحل کنارے مٹی کے ڈھیر سے محل تعمیر کررہے تھے ، ملکہ نے حیرت سے پوچھا کہ بہلول ! کیا کررہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ جنت کا محل تعمیر کررہا ہوں۔ ملکہ نے سوال کیا کہ کیا یہ محل مجھے بیچو گے تو بہلول سو دینا ر میں وہ محل فروخت کرگئے۔ ملکہ محل میں واپس آئیں اور ہارون الرشید کو سارا واقعہ گوش گزار کیا تو اس نے مذاق اڑایا کہ ایک دیوانہ بغداد کی ملکہ سے سو دینا اینٹھ کر چلا گیا۔

رات جب ہارون سویاتو اس نے دیکھا کہ ایک انتہائی حسین و خوشنما باغ میں موجود ہے اور اس کے چہار جانب عظیم الشّان محلّات ہیں اورہر نظّارہ نظارۂ بہشت ہے اتنی حیران کن جگہ دیکھتے ہوئے اس کی نظر ایک جانب کنیزوں اور غلامان جنّت کی صف پر گئی جو ملکہ زبیدہ کی آمد کے منتظر تھے اور ان کے آتے ہی انہوں نے ایک زرنگار کرسی پیش کرتے ہوئے مودّب لہجے میں کہا تشریف رکھیے ۔زبیدہ حیرت کے سمندر میں ڈوبی ہوئی کرسی پر بیٹھ گئی تو ایک کنیز نے آگے بڑھ کر چاندی کی طشتری میں اسے ایک دستاویز پیش ملکہ زبیدہ نے کچھ ہچکچاتے ہوئے وہ دستاویز اٹھا کر کھول کر جو دیکھی تو اس میں سونے کے حرفوں سے لکھا تھا۔

یہ قبالہ ہے اس بہشت کا جسے ملکہ نے بہلول سے خریدا ہے

صبح ہوتے ہی ہارون الرشید نہر کنارے گئے جہاں بہلول بیٹھے پھر مٹی کے محل بنا رہے تھے ، ہارون نے پوچھا کہ بہلول یہ محل بیچتے ہو؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں بیچتا ہوں۔ ہارون نے قیمت پوچھی تو بہلول نے کہا کہ تم اپنی پوری سلطنت دے کر بھی نہیں خرید سکتے ۔ ہارون حیرت سے گویا ہوا کہ کل تو یہ سو دینار کا تھا۔ اس پر بہلول نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اے خلیفہ وقت ! تیری ملکہ نے بغیر دیکھے سودا کیا تھااورتو دیکھنے کے بعد آیا ہے ، آخرت کے سودے ایسے نہیں ہوتے۔

ہارون الرشید کے انتقال کے بعد ملکہ زبیدہ کا بیٹا امین خلافت عباسیہ پر تخت نشین ہوا ، تاہم اسے زیادہ عرصہ حکومت کا موقع نہ مل سکا اور زبیدہ کے سوتیلے بیٹے مامون نے خانہ جنگی کے بعد مامون سے حکومت چھین لی ۔

مرقدِ ملکہ زبیدہ

ملکہ زبیدہ کی وفات بروز پیر 26 جمادی الاول 216ھ بمطابق 10 جولائی 831ء کو بغداد میں ہوئی اور ان کی تدفین مقبرہ خیزران میں کی گئی جو کہ موجودہ ترکی میں واقع ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں