کراچی میں پولیو کا سال دوہزرا چودہ کا پہلا کیس سامنے آگیا ہے جبکہ کراچی کے ہائی رسک زون پولیو رضاکاروں کو پولیس کین سیکورٹی نہ ملنے کے باعث اضافی پولیو مہم بھی مکمل نہ ہوسکی۔اور ہزراوں بچے پولیو کے قطرئے پینے سے محروم ہوگئے.
پولیو حکام کی جانب سے دوسالہ ارسلان میں پولیو وائرس کی تصدیق کے بعد پاکستان بھر میں پولیو کیسوں کی مجموعی تعداد 86 ہوگئی ہے کراچی کے ہائی رسک زون بلدیہ ،بن قاسم اور گڈاپ کے علاقوں میں تین روزہ اضافی پولیو مہم بھی پولیو رضاکاروں کو سیکورٹی نہ ملنے باعث ملتوی کردی گئی تھی جمعرات کے روز اضافی پولیو مہم کا آخری دن تھا.
پولیو حکام کا کہنا ہے کہ قومی پولیو مہم شروع کرنے سے قبل کراچی کے ہائین رسک زون میں اضافی پولیو مہم شروع کرنے کے لئے پولیس کی نفری نہ ملنے کے سبب پولیو کی اضافی مہم چلانے سے قاصر ہیں۔
کراچی میں 2013کاآخری پولیو کیس دسمبر2013کی رات ساڑھے نوبجے قومی ادارہ امراض میں رپورٹ ہوا تھا جس کی پولیو حکام نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھاکہ دو سالہ فاطمہ پولیو سے متاثر ہوئی تھی , کراچی میں پولیو مہم چلانے کے لئے پولیو حکام کو ہائی رسک زون میں پولیو مہم چلانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ کیس فاٹا میں 50زائد رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ صوبہ سندھ میں پولیو کیسوں کی تعداد اب سات ہوچکی ہے۔