site
stats
اہم ترین

اسلام آباد:کارکنوں کی گرفتاری پراحتجاج، اعظم سواتی،عندلیب عباس گرفتار

اسلام آباد: پولیس اور تحریکِ انصاف کے ورکرز ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے، احتجاج ختم کرنے پر پولیس نے تحریکِ انصاف خیبر پختونخواہ کے صدر اعظم سواتی اورعندلیب عباس کو بھی گرفتار کرکے تھانہ مارگلہ منتقل کردیا ہے، جس کے بعد کارکنوں کی بڑی تعداد تھانہ مارگلہ کے باہر بھی جمع ہونا شروع ہوگئی ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے ڈی جے بٹ اوردیگر گرفتار کارکنان کوعدالت میں پیش کیا گیا، عدالت نے ڈی جے بٹ سمیت تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان کوجوڈیشل ریمانڈ پرجیل بھیج دیا، جس کے بعدعدالت کے احاطے میں جمع کارکنان نے احتجاج شروع کردیا۔

اسلام آباد میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتار پاکستان تحریک انصاف اورعوامی تحریک کے کارکنوں کو کہچری میں پیش کیا گیا، اس موقع پر پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماء عارف علوی،عندلیب عباس اوراعظم سواتی سمیت تحریکِ انصاف کے کارکن بڑی تعداد میں موجود تھے۔ جیل بھیجے گئے افراد میں پی ٹی آئی دھرنے میں میوزک کا اہتمام کرنے والے ڈی جے بٹ بھی شامل ہیں۔

ڈی جے بٹ سمیت دیگر کارکنان کی جیل منتقلی پر پی ٹی آئی کارکنان نے پولیس وین کو روک لیا اور گاڑیوں کے پہیوں سے ہوا نکال دی، جس کے بعد کچہری کے باہرافراتفری مچ گئی، کارکنان کا مؤقف ہے کہ کسی صورت کارکنوں کو اڈیالہ جیل نہیں جانے دیں گے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماء عارف علوی نے پی ٹی آئی کارکنوں کی عدالت میں پیشی کے موقع پر کہا ہے کہ اگر جج تین گھنٹوں کے اندر نہیں آئے تو وین کے تالے توڑ کر گرفتار قیدیوں کو نکال لیا جائے گا۔

عارف علوی کا کہنا تھا کہ گرفتاریاں ہمیں ڈرا نہیں سکتیں، مجسٹریٹ کے حکم کے بغیر کارکنوں کو وین میں ڈال کر لے جایا جارہا ہے جبکہ ہم چاہتے ہیں تمام کام قانونی طریقے سے ہو۔

اس موقع پر آئی جی اسلام آباد نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے، جس کے تحت دفعہ 5 سے زائد افراد کا اجتماع ممنوع ہے، ہمیں سیاست سے کوئی غرض نہیں لیکن غیر قانونی احتجاج کو روکنا پولیس کا فرض ہے،  اگر احتجاج ختم نہ ہوا تو ایک ایک کو گرفتار کریں گے۔

دوسری جانب  تحریکِ انصاف کے رہنماء عارف علوی نے گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا ہے، پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان کی مڈ بھیڑ میں پولیس وین میں قید ورکرز بے ہوش بھی ہوئے ہیں۔

۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top