The news is by your side.

Advertisement

الطاف حسین یونیورسٹی کا سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا

حیدرآباد: گورنرسندھ عشرت العباد اوربزنس ٹائیکون ملک ریاض نے مشترکہ طورپرحیدر آباد میں الطاف حسین یونیورسٹی کا سنگِ بنیاد رکھ دیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک ریاض کا کہنا تھا کہ ’یونیورسٹی کی تعمیر کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔

اس موقع پربحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض کا کہنا تھا کہ اس یونیورسٹی کی تعمیر پر 40 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں سیاست دان نہیں ہوں اور نہ ہی سیاست میں دلچسپی لوں گا۔ انہوں اسلامی دنیا میں یونیورسٹیز کی قلیل تعداد پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔

انہوں اعلان کیا کہ یونیورسٹی کے علاوہ الطاف حسین کے نام پراسکول اوراسپتال بھی تعمیر کیا جائے گا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے انتہائی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہ یونیورسٹی میں الطاف حسین کے نام سے اسکالرشپ دی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ الطاف حسین صرف سیاسی رہنماء ہی نہیں بلکہ وہ ایک استاد اورفلسفی بھی ہیں۔

الطاف حسین کا اظہارِ مسرت

ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین نے حیدرآباد میں یونیورسٹی کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کو شکست دینے کے لئے تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی جائے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد نے حیدر آباد شہر میں اپنے نام سے منسوب یونیورسٹی کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب میں کہا کہ چیئرمین بحریہ ملک ریاض حسین کو سلام پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے حیدرآباد کے شہریوں کی 55 سالہ امید کو پورا کیا، ملک ریاض بے سہارا لوگوں کی امید ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اللہ نے ملک ریاض کو فرشتہ بناکرگورنر سندھ کے پاس بھیجا، حیدرآباد میں یونیورسٹی کا قیام میری دیرینہ خواہش تھی جس کا اظہار ڈاکٹرعشرت العباد سے کیا تھا۔

انہوں نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا بھی یونیورسٹی کے قیام کے لئے زمین کی فراہمی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگریہ اعلان آپ کے دور میں ہوجاتا تو زیادہ بہترہوتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس یونیورسٹی میں الطاف حسین کے رشتے داروں کو داخلہ نہیں ملے گا بلکہ میرٹ کی بنیاد پر داخلہ دیا جائے ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ صرف اردو بولنے والوں کی یونورسٹی نہیں بلکہ منشور کے مطابق ہرشہر، ہرزبان اورہرمذہب کے لوگوں کی یونیورسٹی ہے۔

الطاف حسین نے کہا کہ جتنا علم حاصل کرو گے اتنے ہی خوشحال ہوں گے آسودہ حال ہوگے اورلوگوں کی مدد کرسکو گے،جو قومیں علم سے بے بہرہ ہوتیں ہیں وہ مردہ قومیں کہلاتی ہیں اوروہ جہالت کے اندھیروں میں گم ہوجاتی ہیں۔

ایم کیو ایم کے قائد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کبھی بھی تعلیم پر توجہ نہیں دی گئی او اسی سبب ہم کشکول اٹھا کر دنیا میں بھیک مانگنے پرمجبورہیں جبکہ تعلیم حاصل کرنے والی قومیں آج سپر پاوربن چکی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایم کیو ایم کے پاس جب تعلیم کی وزارت آئی تو پورسے سند ھ میں 400 نئے اسکول تعمیر کیے لیکن افسوس کہ ایم کیو ایم کی وزارت ختم ہوتے ہی وڈیروں نے ان اسکولوں پر قبضہ کرکے انہیں اپنی اوطاق میں تبدیل کردیا۔

انہوں نے صوبائی اوروفاقی حکومت سے درخواست کی کہ ملک میں فوری طور پر تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی جائے تاکہ دہشت گردی سمیت ملک کے دیگرگھمبیر مسائل کو شکست دی جاسکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انکی کبھی بھی ملک ریاض سے ملاقات نہیں ہوئی لیکن دل کو دل سے راہ ہوتی ہے ، انہوں نے ملک ریاض کی دسترخوان کی درخواست کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ’’ملک ریاض حیدرآباد شہر آپ کا ہے آپ ایک نہیں 100 دسترخوان بنائیں۔‘‘

انہوں ملک میں بسنے والی تمام قومیتوں سے کہا کہ آئیں اورامتحان میں بیٹھیں مستحق طلبہ کے لئے 50 اسکالر شپس ملک ریاض نے اعلان کی ہوئی ہیں، اور یونیورسٹی کی فیس کم ہوگی۔

یونیورسٹی گلستانِ سرمست میں قائم کی جارہی ہے اوراس کا ڈیزائن نیرعلی دادا بھائی نے تیار کیا ہے۔ یونیورسٹی دوکروڑ روپے کی لاگت سے دو سال کی مدت میں تیارہوگی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں