site
stats
Uncategorized

آج فیض احمد فیض کا103واں یوم پیدائش منایا جارہاہے

فیض احمد فیض کا شماراردوکےعظیم شعراء میں ہوتا ہے، آپ 1911 میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، آپ کا نام فیض احمد اور تخلص فیض تھا۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم آبائی شہر سے ہی حاصل کی، اس کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی میں ایم اے اور اورینٹل کالج سے عربی میں بھی ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔

انیس سو تیس میں لیکچرار کی حیثیت سے ملازمت کا آغاز کیا۔ اس کے کچھ عرصے بعد آپ برٹش آرمی میں بطورکپتان شامل ہوگئے اور محکمہ تعلقات عامہ میں فرائض انجام دیئے۔فیض نے لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے تک پہنچ کرفوج کوخیرباد کہا اوراس کے بعد وہ واپس شعبہِ تعلیم سے منسلک ہوگئے۔

فیض نے قلم کاری کا آغازشاعری سے کیا اوراردواورپنجابی میں شاعری کی، بعد میں وہ صحافت سے منسلک ہوگئے، فیض احمد فیض اردو ادب میں ایک ایسا ممتاز نام ہیں، جنہوں نے سیاسی اورسماجی مسائل ک مختلف احساسات سے جوڑتے ہوئے یادگاررومانوی گیتوں کا حصہ بنا دیا۔

فیض احمد فیض کی تخلیقات میں نقش فریادی، دست صبا، نسخہ ہائے وفا، زندان نامہ، دست تہہ سنگ، سروادی سینا، مرے دل مرے مسافرسمیت درجنوں شعری مجموعے اور تصانیف شامل ہیں۔ ان کے ادبی مجموعوں کا انگریزی ، فارسی، روسی ، جرمن اوردیگر زبانوں میں بھی ترجمہ کیا جا چکا ہے۔

fazzzz

انہوں نے ادبی صورتحال اور ملکی حالات پر مضامین بھی تحریر کئے، جو بعد میں کتابی شکل میں شائع ہوئے۔ فیض احمد فیض شروع سے ہی انقلابی ذہن کے حامل تھے، وہ ایک طویل عرصے تک انجمنِ ترقی پسند مصنفین کے سرگرم رکن رہے اورآمریت اورظلم کے خلاف قلمی جہاد کے ساتھ ساتھ عملی کرداربھی ادا کیا۔

فیض احمد فیض کی اعلیٰ ادبی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان کی طرف سے انہیں ملک کا سب سے بڑا سول ایوارڈ نشانِ امتیازاورسوویت یونین کی جانب سے لینن پرائزعطا کیا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں نگارایوارڈ اورپاکستان ہیومن رائٹس سوسائٹی کی طرف سے امن انعام سے بھی نوازا گیا۔

ان کے اشعار کی انقلاب آفرینی آج بھی جذبوں کو جلا بخشنے کا ذریعہ ہے۔ فیض نے شخصی آزادی اور حقوق کی آواز کچھ اس طرح بلند کی کہ وہ سب کی آواز بن گئی ، فیض نوبل پرائز کے لیے بھی منتخب ہوئے۔

familly

فیض احمد فیض مارچ انیس سواکیاون میں راولپنڈی سازش كیس میں گرفتار بھی ہوئے، آپ نے چارسال سرگودھا، ساھیوال، حیدرآباد اور كراچی كی جیل میں گزارے۔ آپ كو 2 اپریل 1955 كو رہا كر دیا گیا ، زنداں نامہ كی بیشتر نظمیں اسی عرصہ میں لكھی گئیں۔

زنداں نامہ كی بیشتر نظمیں اسی عرصہ میں لكھی گئیں، وہ بیس نومبر انیس سو چوراسی کو تہتر برس کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے اورلاہور میں گلبرگ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔

جو رُکے تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر گئے

رہ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top