تھر پارکر: صوبائی حکومت کی مجرمانہ غفلت یا کچھ اور،بچوں کی اموات 95 ہوگئیں -
The news is by your side.

Advertisement

تھر پارکر: صوبائی حکومت کی مجرمانہ غفلت یا کچھ اور،بچوں کی اموات 95 ہوگئیں

تھرپارکر: تھر پارکر میں نو مو لود بچوں کی اموات کا سلسلہ تھمنے کا نا م ہی نہیں لے رہا ہے، ضلع میں مزید دس بچے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہے اور تھر پارکر میں اموات کی تعداد پچانوے ہوگئی ہے۔

ایک جانب حکومتی دعوے ہیں اور دوسری جانب تھر میں موت کا رقصاں جاری ہے۔ صوبہ سندھ  کا ضلع تھرپار کر جہاں ننھے معصوم بچوں کے مرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

صوبائی حکومت کی جا نب سے سہولیات کی فراہمی کے بلند و با نگ دعوےکئے جارہیں ہیں اور وزرا کے دوروں اور فوٹو سیشن کا سلسلہ بھی جاری ہے لیکن عملا ً پے درپے بچوں کی اموات کی سدباب کیلئے عملی طور پر کچھ نہیں کیا جارہا ہے۔

سسکتے بلکتے بچے کبھی دوا اور کبھی غذا کی کمی کے سبب موت کا شکار ہورہے ہیں اور کسی حکومتی عہدیدار پر کوئی اثر نہیں ہورہا ہے۔ مٹھی کے سول اسپتال میں بچے مسلسل موت کے منہ میں جارہے ہیں۔ گزشتہ تین دنوں میں مرنے والے بچوں کی تعداد اٹھا ئیس ہے اور ڈیڑھ ماہ کے دوران مرنے والے بچوں کی تعداد ترانوے ہوگئی ہے۔

دوسری جانب وزیر اعلی قائم علی شاہ کارکردگی کے دعوے کرتے ہوئے نہیں تھکتے اور تھر میں بڑھتی ہوئی اموات بھی حکومت کو نیند سے نہ جگا سکیں۔ تھر میں بڑھتی ہو ئی اموات پر حکومتی کارکردگی ابھی تک سوالیہ نشان ہے۔

وزیر اعلی سند ھ نے لاہور میں گفتگو کر تے ہو ئے فرمایا کہ تھر میں غربت آج سے نہیں بہت پہلے سے ہے اور حکومت وہاں فری گندم فراہم کر رہی ہے۔ قائم علی شاہ دوسری جانب سندھ اسمبلی میں تھر کے مسئلے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ بھی جاری ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما محمد حسین نے کہا ایک دن میں دس بچوں کی اموات افسوسناک ہے۔ جس پر ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کا کہنا تھا کہ تھرکے معاملے پر سندھ اسمبلی میں کمیٹی بن چکی ہے۔

ان باتوں سے قطع نظر اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ تھر کے باسی بھو ک، پیاس، غربت، اموات، بیماری، دواؤں کی کمی اور ڈاکٹرز کی کمی جیسے مسائل سے پہلے بھی دو چار تھے اور آج بھی ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں