The news is by your side.

Advertisement

رمادی پرداعش کا قبضہ، شیعہ ملیشیا متحرک ہوگئیں

بغداد:عراقی شہررمادی میں تین روزہ ہلاکت خیزجنگ میں حکومتی فورسزکو داعش کے ہاتھوں شکست ہوگئی جس کے شیعہ ملیشیا گروہوں نے رمادی کے اطراف میں جمع ہونا شروع کردیا ہے تاکہ دولت اسلامیہ کے دہشت گردوں سے شہرکو واپس لیا جاسکے۔

گزشتہ سال سے شدت پسندوں کے ساتھ جاری جنگ میں عراق کے سب سے بڑے صوبے کے دارالحکومت کا داعش کے ہاتھوں میں چلے جانا عراقی حکومت کے لئے اب تک کا سب سے بڑا جھٹکا ہے۔

واضح رہے کہ دولت اسلامیہ کے سربراہ ابو بکر البغدادی کی ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد جہادی گروہ نے اپنی کاروائیاں تیز کردی ہیں، انہوں نے شام کے ثقافتی ورثے ’’پالمیرا‘‘ کی جانب بھی پیش قدمی کرنی چاہی لیکن فوج نے انہیں ماربھگایا۔

دوسری جانب عراقی وزیراعظم حیدر العبادی، امریکہ اور سنی اکثریتی صوبے ’انبر‘کی مقامی انتظامیہ رمادی میں ایرانی حمایت یافتہ شیعہ گروہوں کو بھیجنے میں ہچکچاہٹ کا شکارہے۔

مقامی حکومت کا خیال ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے عراقی فورسز کو استعمال کیا جائے جب کہ ہادی الامیری نامی ملیشیا لیڈر کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ روز میں ہونے والی کاروائیوں میں ثابت ہوا ہے کہ عراقی فورسز اکیلے یہ کام انجام دینے کی اہل نہیں ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ تین روز میں رمادی میں ہونے والی جنگ میں 500 سے زائد افراد اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں