The news is by your side.

Advertisement

سراج الحق کی دیر میں خواتین کے ووٹ نہ ڈالنے کے جواز کی وکالت

شیخوپورہ: امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے دیر میں خواتین کے ووٹ نہ ڈالنے کے جواز کی وکالت شروع کردی، انکا کہنا تھا کہ خواتین کو اپنے مردوں پر اعتبار ہے وہ گھریلو مصروفیات کے باعث ووٹ نہیں ڈال سکیں۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے شیخوپورہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے نام پر ملک میں تماشہ ہورہاہے، را اور موساد ملک میں دہشت گردی کررہے ہیں۔

اسلامی نظامت تعلیم کی تقریب سے خطاب میں سراج الحق نے کہا کہ دیر میں خواتین کے ووٹ نہ ڈالنے کی وجہ سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ وہاں کا کلچر ہے، جس کی وجہ سے خواتین ووٹ نہیں ڈالنے جاتیں۔

انھوں نے کہا کہ چترال ، سوات سمیت پختونخواہ کے دیگر علاقوں میں خواتین ووٹ کا حق استعمال کرتی ہیں۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ دیر کی خواتین کو اپنے مردوں پر اعتبار ہے کہ ووٹ کا صحیح حق استعمال کریں گے۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ یا تو حکومت ووٹ نہ ڈالنے کو جرم قرار دے مگر دیر کی خواتین کو جاہل قرار دینا زیادتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ حلقہ این اے ایک سو پچیس کے فیصلے کے بعد حکومت کی چارپائی کا ایک پول گرگیا ہے۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ مغرب نے یمن ، عراق، شام پر جنگ مسلط کی اور ایران اور عراق کو دس سال تک لڑاتے رہے مگر خود یورپی یونین بنا کر اتحاد کا مظاہرہ کرتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں وی آئی پی کلچر کینسر بن چکا جسے ہر صورت ختم کریں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں