The news is by your side.

Advertisement

صدر بش کے دور میں سی آئی اے کے تفتیشی طریقہ کار وحشیانہ تھے، رپورٹ

واشنگٹن: امریکی سینٹ نے سی آئی اے کے سخت ترین تفتیشی طریقہ کار پر تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے صدر بش کے دور میں سی آئی اے کے تفتیشی طریقہ کار وحشیانہ تھے۔

تفصیلاے کے مطابق امریکی سی آئی اے کی کارروائیوں اور طریقہ کار کی کہانیاں اب فقظ کہانیاں نہیں رہیئں، امریکن سی آئی اے کے بارے میں امریکن سینٹ انٹیلی جنس کمیٹی نے ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ جس نے سنی سنائی کہانیوں میں حقیقت کے رنگ بھر دیے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر بش کے دور میں سی آئی اے کے تفتیشی طریقہ کار وحشیانہ تھے، گیارہ ستمبر کے بعد سی آئی اے کے اپنائے گئے طریقہ کار غلط معلومات حاصل کرنے کا سبب بنے ہیں۔ سی آئی اے کے حوالے سے جاری کرنے والی رپورٹ چھ ہزار صفحات پر مشمل ہے۔ ذرائع کے مطابق سی آئی اے اور سینٹ کمیٹی میں لمبی بحث کے بعد رپورٹ کے صرف چار سو اسی صفحات جاری کئے گئے ہیں۔

امریکی صدر باراک اوباما نے رپورٹ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے گیارہ ستمبر کے بعد سی آئی اے نے امریکہ کی حفاظت کیلئے قابل قدر اقدامات کیے ہیں اور امریکہ آج اپنے جاسوسوں کی محب وطنی اور قربانیوں کی وجہ سے محفوظ ہے۔

باراک اوباما کا یہ بھی کہنا ہے کہ سینٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی رپورٹ کے شواہد نے دنیا میں امریکہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ صدر اوباما کا کہنا ہے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئندہ ایسے واقعات کی روکھ تھام کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ باراک اوباما نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ القائدہ اور دیگر شدت پسندوں کو ختم کرنے کیلئے وہ ان تھک کوششیں جاری رکھیں گے۔

سینیٹ کمیٹی کی رپورٹ جاری ہونے پر جہاں اوباما انتظامیہ کو ری پبلکنز کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا ہے وہیں یہ رپورٹ دنیا کو انسانی حقوق کے عملبردار امریکہ کی اصل شکل بھی دکھاتی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں