The news is by your side.

Advertisement

فرقہ واریت کا خوف، عراق نے داعش کے خلاف مہم کا نام بدل گیا

بغداد: عراق میں سنی اکثریتی شہر’رمادی‘ کو داعش سے واپس چھیننے کے لئے شیعہ مسلح گروہ کی جانب سے ترتیب کردہ مہم کا نام بدل دیا گیا ، اس کی وجہ وہ تنقید بتائی جارہی ہے کہ اس نام سے فرقہ واریت کو فروغ ملے گا۔

مہم کے نام کی تبدیلی اس وجہ سے کی گئی کہ عراقی حکومت داعش کے خلاف لڑنے کے لئےانتشارکا شکارملکی فوج پرانحصار کرنے کے بجائے شیعہ مسلح گروہوں پرزیادہ بھروسہ کررہی ہے جس کی وجہ سے ملک کی سنی آبادی کو تحفظات درپیش تھے۔

شیعہ مسلح گروہ کی جانب سے پہلے اس مہم کا نام ’’لبیک یا حسین‘‘ رکھا گیا تھا لیکن سنی مسلمانوں کے اعتراض کے بعد یہ نام تبدیل کرکے ’’لبیک یا عراق‘‘ رکھا گیا ہے۔

شیعہ گروہ الحشد شعبی کے ترجمان کریم النوری کا کہنا ہے کہ ’’دونوں نام ایک ہی مفہوم کے تحت ہیں لہذا ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘‘۔

عراقی وزیر اعظم حیدرالعبادی شیعہ گروہوں کو انبر صوبے میں لڑنے کے لئے بھیجنے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھے کیونکہ ان کا پہلے ہی خیال تھا کہ اس سے فرقہ وارانہ عوامل تقویت حاصل کریں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں