The news is by your side.

Advertisement

میانمار کے روہنگیا مسلمان اورعالمی برادری کی بے حسی

میانمار: روہنگیا مسلمان اپنے ہی وطن میں اجنبی بن گئے اور زندگی کی تلاش میں دربدر بھٹکنے پر مجبور ہیں، تین ہزار سے زائد روہنگیا مسلمانوں کے بارے میں عالمی ضمیر بے حس ہے۔

میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار عالمی ضمیر کے منہ پر کسی طمانچے سے کم نہیں، اپنے ہی وطن میں شہریت کے حق سے محروم کردئیے گئے تین ہزارسے زائد روہنگیا مسلمان دوماہ سے زائد عرصے سے کشتیوں میں سمندر کی موجوں کے رحم وکرم پر ہیں لیکن کسی انسانی حقوق کی تنظیم نے مدد کی نہ ہی انسانی حقوق کا چیمپئین ہونے کا دعوے دار کوئی ملک ہی انسانی ہمدردی کی بناء پر بھوکے پیاسے روہنگیا مسلمان عورتوں، مردوں اور بچوں کی مدد کو آگے آیا۔

بے بس اور قابل رحم روہنگیا مسلمان زندگی کی تلاش میں در درکی ٹھوکریں کھا رہے ہیں لیکن کوئی ان کی مدد کرنے والا نہیں۔

میانمار کی حکومت کے ظلم وستم سے نجات حاصل کرنے کیلئے روہنگیا مسلمانوں کا ساتھ قسمت بھی نہیں دے رہی، کوئی انسانی اسمگلروں کے ہاتھ لگا تو کوئی بدھ مت کے نام نہاد پیروکاروں کے ہتھے چڑھا۔

تھائی لینڈ کے کیمپوں میں بسنے والوں کو بھوک اور اتنظامیہ کے ظلم وستم کا سامنا ہے تو خواتین کی عزتیں بھی محفوظ نہیں۔

ترکی واحد ملک ہے جس نے روہنگیا مسلمانوں کی مدد کی لیکن اس کے علاوہ عالمی سطح پر زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں ہورہا۔۔ روہنگیا کے مظلوم مسلمان اقوام متحدہ کی مدد کے منتظر ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں