The news is by your side.

Advertisement

امریکا میں اسکول حملے کے خلاف طلبہ کا احتجاج

تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست فلوریڈا کے اسکول میں ایک ماہ قبل ہونے والے خوفناک قتل عام کے خلاف اسکول کے طالب علموں اورانتظامیہ و اساتذہ نے امریکا بھرمیں احتجاج شروع کردیے ہیں۔

امریکا میں زیر تعلیم بچوں نے مرجوری اسٹون مین ڈوگلیس اسکول میں سابق طالب علم کی جانے والی فائرنگ سے ہلاک ہوئے17 لوگوں کی یاد میں 17 منٹ تک اپنی نصابی سرگمیوں کو مطعل رکھااور فٹبال گراؤنڈ میں ایک دوسرے گلے بھی لگایا ۔

مظاہرے کے منتظمین کےجانب سے کارنگریس کے حکام پر یہ الزام عائد کیا جارہا ہے کہ انہوں نے اسلحے کے ذریعے ہونے والے پُرتشدد واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے ابھی تک کسی قسم کے موثر اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔

اسکول کے طلباوطالبات وائٹ ہاوس کی جانب مارچ کررہےہیں

وائٹ ہاوس انتظامیہ نے اس ہفتے اسکولوں میں ہونے والی فائرنگ کے بڑھتے ہوئے حادثات کو روکنے کی غرض سے ایک منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ لیکن اس میں امریکی صدر ٹرمپ جانب سے خودکار اسلحہ خریدنے کی عمر میں کیا گیا اضافہ شامل نہیں ہے۔

باوجود اس کے کہ امریکی صدر نے اسلحے کے لیے عمر کی حد 21سال معین کی ہے پھر بھی اسکول انتظامیہ کو خودکار ہتھیار چلانے کی تربیت دینے کے اس متنازعے منصوبے کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ نیشنل واک آؤٹ منعقد کرنے والی یہ وہی تنظیم ہے جس نے گذشتہ سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف خواتین کا احتجاج منعقد کیا تھا۔ مظاہرے کے منتظمین نے طلبہ،اساتذہ،اسٹاف اور اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین سے احتجاج کا حصّہ بننے درخواست کی ہے۔

مظاہرے کے منتظمین نے اپنی ویب سائٹ پر کانگریس پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ’کانگریس دعائیں اورٹویٹ کرنے بجائے اسلحے کے ذریعے اسکولوں میں ہونے والے پرتشدد واقعات خلاف عملی اقدامات کرے‘۔

پارک لینڈ کے متاثرہ اسٹون مین ڈوگلیس اسکول کے پرنسپل کی جانب سے دی گئی احتجاج کی کال پر ہزاروں کی تعداد میں طالب علموں اور متاثرہ افراد کے خاندانوں اور حامیوں نے فٹبال گراؤنڈ کی جانب آہستہ آہستہ مارچ کیا گیا ہے۔

اسٹون مین اسکول کے طلبہ فٹبال گراؤنڈ کی جانب ماقچ کررہیےہیں

دوسری طرف واشنگٹن ڈی سی کے طلبہ کے جمِ غفیر نے وائٹ ہاوس کے باہر جمع ہوکر احتجاج کیا اور نعرے بازی بھی کی، مظاہرین نے ہاھتوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس پر’عوام کی حفاظت کرو ہتھیار کی نہیں‘اور’دوبارہ نہ ہو‘اور’بس بہت ہوا‘جیسے نعرے درج تھے۔

امریکی ریاست فلوریڈا میں قانون ساز ادارے نے بدھ کے روز ایک بل منظور کیا، جس کے بعد فلوریڈا کے اساتذہ کو کلاس میں اسلحہ لے جانے کی قانونی اجازت مل گئی۔ اس متنازع قانون کو چند ہفتے قبل ’مرجوری اسٹون مین ڈوگلس ہائی اسکول‘ میں ہونے والے قتل عام کے پیش نظر وضع کیا گیاہے، تاکہ دہشت گرد حملوں کا نقصان کم کیا جاسکے۔

واضح رہے کہ جنوری میں اسکول پر ہونے والے حملے کے فوراً بعد واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے سامنے ہزاروں طلبا وطالبات اور والدین نے احتجاج کیا تھا اور امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ سمیت نیشنل رائفل ایسوسی ایشن کے خلاف’شیم آن یو‘کے نعرے بھی لگائے تھے ۔ فلوریڈا فائرنگ کے تناظرمیں مظاہرین 3 منٹ تک وائٹ ہاؤس کے باہراحتجاً لیٹے رہے تھے۔

 منگل کے روز عدالت میں درج ہونے والے نوٹس میں امریکی پراسٹیکیوٹرکا کہنا تھا کہ شدید ظالمانہ طریقے سے قتل عام کرنے والے نوجوان نکولس کو جرم ثابت ہونے کی صورت میں سزائے موت دینے پر غور کیا جارہا ہے۔ نوٹس میں یہ بھی کہا گیاہے کہ’اخلاقی یا قانونی جواز کے بغیر یہ اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ اسکول پر کیا گیا حملہ نفرت یا غصّے کی بنیاد پر تھا‘۔

خیال رہے کہ 15 جنوری کو فلوریڈا کے اسٹون مین ڈوگلیس ہائی اسکول میں 19 سالہ حملہ آور نے اسکول کے اندر گھستےہی فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں17افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے تھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں