The news is by your side.

Advertisement

پانی کی چوری میں صنعت کار بھی ملوث ہیں، شرجیل میمن

کراچی : سندھ اسمبلی کے اجلاس میں کراچی میں پانی کے بحران پر گرما گرم بحث ہوئی۔ ایوان میں پانی کے مسئلے پر ایم کیوایم ، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی رہنماؤں میں تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی کے اجلاس میں کراچی میں پانی کے بحران پرایم کیوایم نے ایوان میں تحریکِ التوا پیش کی۔

سندھ اسمبلی میں ایم کیوایم کے اپوزیشن لیڈرخواجہ اظہارالحسن نے کہا کہ واٹربورڈ اورکراچی الیکٹرک دونوں ادارے پیسے کے لئے سیاست کررہے ہیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیوایم کے رہنما سیف الدین خالد نےکہا کہ کراچی کےعوام سے پانی کی فراہمی میں سنگین مذاق کیاجارہا ہے۔

کراچی کی آبادی میں اضافےکےباوجود پانی کے کوٹے میں اضافہ نہیں کیا گیا۔شہرکےمختلف علاقوں میں پانی چوری کرلیاجاتاہے۔

رکن شمیم ممتاز کا کہنا تھا کہ پانی کےبحران کی بڑی وجہ لوڈ شیڈ نگ بھی ہے۔ واٹربورڈ میں اضافی بھرتی اور اس مد میں تنخواہوں کی رقم پانی کے منصوبوں پرخرچ کی جاسکتی تھی۔ واٹربورڈ سے اضافی ملازمین کونکالا جائے۔ بلدیاتی انتخابات کی وجہ سے پانی پرسیاست کی جارہی ہے۔

پی ٹی آئی کے رہنماثمرعلی خان نے کہا کہ ایک ہائیڈرنٹ خراب ہونے کی صورت میں کوئی متبادل موجودنہیں ہوتا۔ پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ واٹربورڈ پرقابض لوگ پانی پرشورمچاکرسیاست چمکا رہے ہیں۔

خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم حکومت سندھ سے باہرآگئی ہے تواسے پانی بحران کی فکرہوگئی۔ واٹربورڈ پرکراچی کی ایک سیاسی جماعت کا قبضہ ہے۔

ایم کیوایم کے رہنما وسیم قریشی نے کہا کہ بلدیاتی الیکشن کی وجہ سے پانی پرسیاست کا الزام دینے والے این اے دوسوچھیالیس کا نتیجہ دیکھ لیں۔

صوبائی وزیر بلدیات شرجیل میمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پانی چوری کے بعض معاملات سے آگاہی کے باوجودمصلحت سے کام لےرہے ہیں۔ پانی چوری میں صنعتکار بھی ملوث ہیں۔

سندھ اسمبلی کے اجلاس میں تمام اراکین نے کراچی میں پانی کا بحران فوری حل کرنے کامطالبہ کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں