site
stats
انفوٹینمنٹ

پپیتہ:ہزاروں خوبیوں سے لبریز،زود ہضم پھل

کراچی (ویب ڈیسک) پپیتہ ایک زود ہضم غذا ہے یہ انسانی صحت کو برقرار رکھنے میں ایک خاص اہمیت کاحامل ہے اسے مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاسکتا ہے اپنے ذائقے اور غذابیت کے لحاظ سے اسے دوسرے پھلوں پر فوقیت حاصل ہے بھارت میں پپیتے کی کاشت آج سے تیس سال پہلے شروع ہوئی اور مقامی سطح پر متعارف ہونے والے ایک سو پھلوں میں اس کا سولہواں نمبر ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ گرمیوں کے پھلوں کا آم بادشاہ ہے، ہر گلی اور ہر بازار میں آپ کو دکاندار ٹھیلوں اور دکانوں میں آم بیچتے دکھائی دیں گے ہر میگزین میں آم سے تیار ہونے والی اشیاءکی تراکیب درج ہوتی ہیں بات مزیدار آئس کریم کی ہو یا ملک شیک کی، کتابوں میں درج تراکیب عام آدمی کو آم خریدنے پر مجبور کرتی ہیں لیکن بے چارے پپیتے کو پھلوں کا ایک غریب رشتہ دار سمجھا جاتا ہے کچھ ہی لوگ پپیتے کی اہمیت اور اس کی خواص کے بارے میں جانتے ہیں حالانکہ حقیقت میں پپیتہ کسی بھی طرح اپنے فوائد میں دیگر پھلوں سے پیچھے نہیں ہے، اس میں وٹامن سی اور وٹامن اے کی ایک بڑی تعداد ہوتی ہے جبکہ ان میں کیلشیم ، آئرن اور چند دیگر صحت بخش اجزاءبھی ہوتے ہیں پپیتہ سوڈیم، کیلوریز اور پوٹاشیم کی اچھی خاصی مقدار کا حامل ہونے کی وجہ سے دانتوں اور ہاضمے کیلئے بھی مفید ہوتا ہے ایک چیز پپیتے کو بہت اہمیت دیتی ہے وہ اس کی شوگر کے لیول کو برقرار رکھنے کی صلاحیت ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ دنیا بھر میں گرم ملکوں میں پیدا ہوتا ہے جیسے وسطی امریکہ اور امریکی ریاست میکسیکو میںپپیتا بڑی تعداد مین پیدا ہوتا ہے، بھارت میں پپیتا سترہ ہزار ایکڑز پر پھیلے ہوئے ہزار فارمز میں پیدا ہوتا ہے یہ دنیا کے ان سوپھلوں میں بھی شامل ہے جن کے پھل ایک کلو گرام تک وزن رکھتے ہیں، واشنگٹن میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹی کلچر ریسرچ کی تحقیقات کے مطابق درمیانے سائز کا پپیتہ اپنے شیریں ذائقے کی وجہ سے بے حد مقبول ہے جبکہ ریجنل سرچ اسٹیشن نے تجربات کے ذریعے پپیتے کو اور زیادہ مزیدار بنانے کے اقدامات کئے ہیں تجرباتی ادارے کا کہنا ہے کہ درمیانے سائز کا مزیدار پپیتہ ایکسپورٹ کرنے کیلئے ایک آئیڈیل پھل ہے جبکہ ہرے رنگ کا کچا پپیتا میڈیکل کی رو سے بہت اہمیت حامل ہے، بھارت کے لوگوں کا ماننا ہے کہ اپنی گرمی کے باعث پپیتہ حاملہ خواتین کیلئے مفید نہیں ہوتا تاہم یہ صرف افراد کے ماننے کی بات ہے ورنہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک سوگرام کے پپیتے میں سترہ ملی گرام کیلشیم ، صفراعشاریہ پانچ ملی گرام آئرن چھ سو چھیاسٹھ ملی گرام کیروٹین اور ستاون ملی گرام وٹامن سی ہوتا ہے جبکہ پپیتہ متعدد کاسمیٹکس میں بھی استعمال کیا جاتا ہے بازار میں ایسی بہت سی فیشل کریمیں اور شیمپو دستیاب ہیں جن میں پپیتا استعمال کیاجاتا ہے۔
بہت سی خواتین اپنے چہرے کی تازگی برقرار رکھنے کیلئے پپیتے کا استعمال کرتی ہیں جبکہ کچے پپیتے کو گوشت کو گلانے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ جس گوشت کو گلانے کیلئے ہرے پپیتے کا استعمال کیاجائے پکنے کے بعد اس کا ذائقہ عام کھانے سے دگنا ہوجاتا ہے۔
پپیتہ بیج سے پیدا ہونے والا پھل ہے اور اگر اس کی مناسب حفاظت کی جائے تو اس کا درخت پانچ سال تک پھل دیتا ہے امریکہ میں کرسمس کے موقع پر پپیتے کے درخت کو قمقموں سے سجانے کیلئے پسند کیاجاتا ہے جبکہ متعدد افراد اپنے کولہوں کی چربی کم کرنے کیلئے پپیتے کو صبح ناشتے میں استعمال کرتے ہیں بھارت میں چونکہ پپیتا آسانی سے دستیاب ہے اس لئے یہاں کے لوگوں کو اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہے ہم باآسانی اسے سلاد کے طورپر استعمال کرسکتے ہیں اور اس سے پھلوں کے جامس بھی بنائے جاسکتے ہیں، جیسا کہ تھائی لینڈ میں اس سے استفادہ کیا جاتا ہے انسانی ہاضمے اور جسمانی صحت کو برقرار رکھنے میں کوئی بھی پھل پپیتے کا مقابلہ نہیں کرسکتا یہ معدے کی تیزابیت کو کم کرتا ہے جس سے انسان اپنے آپ کو توانا محسوس کرتا ہے اسے چہرے اور ہاتھوں پر ملنے سے جلد بہت شفاف اور چکنی ہوجاتی ہے جیسے جاوا کے جزیرے پر رہنے والے لوگوں کی جلد بہت شفاف ہوتی ہے تو وہ اسے پپیتے کا کرشمہ قرار دیتے ہیں طبی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ بہت جلد پپیتے کے ذریعے کینسر کا علاج کیاجاسکے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top